سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب في بيع الغرر
باب: دھوکہ کی بیع منع ہے۔
حدیث نمبر: 3380
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حبل الحبلة» (بچے کے بچہ) کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3380]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حاملہ جانور کے بچے کے بچے کی بیع“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 61 (2143)، السلم 7 (2256)، مناقب الأنصار 26 (3843)، سنن النسائی/البیوع 66 (4629)، سنن ابن ماجہ/التجارات 24 (2197)، (تحفة الأشراف: 8370)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 3 (1514)، سنن الترمذی/البیوع 16 (1229)، موطا امام مالک/البیوع 26 (62)، مسند احمد (1/56، 63) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بیع ایام جاہلیت میں مروج تھی، آدمی اس شرط پر اونٹ خریدتا تھا کہ جب اونٹنی بچہ جنے گی پھر بچے کا بچہ ہو گا تب وہ اس اونٹ کے پیسے دے گا تو ایسی بیع سے روک دیا گیا ہے، اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس حاملہ اونٹنی کی بچی حاملہ ہوکر جو بچہ جنے اس بچہ کو ابھی خریدتا ہوں “ تو یہ بیع بھی دھوکہ والے بیع میں داخل ہے کیوں کہ ابھی وہ بچہ معدوم ہے یہ اہل لغت کی تفسیر ہے، پہلی تفسیر راوی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ہے اس لئے وہی زیادہ معتبر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2143) صحيح مسلم (1514)
حدیث نمبر: 3381
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وقَالَ: وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ بَطْنَهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي نُتِجَتْ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے «حبل الحبلة» یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3381]
جناب نافع رحمہ اللہ نے بواسطہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی مانند روایت کیا اور کہا: ” «حَبَلِ الْحَبَلَةِ» یہ ہے کہ یہ اونٹنی بچہ جنے گی، پھر جب وہ پیدا ہونے والی اونٹنی حاملہ ہوگی (تو اس وقت ادائیگی ہوگی)۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ مناقب الأنصار 26 (3843)، صحیح مسلم/ البیوع 3 (1514)، (تحفة الأشراف: 8149) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3843) صحيح مسلم (1514)