سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب كيف اليمين
باب: قسم کیسے کھائی جائے؟
حدیث نمبر: 3620
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ:" احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ"، يَعْنِي لِلْمُدَّعِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: ”اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس (یعنی مدعی کی) کی کوئی چیز نہیں ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3620]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھوائی کہ ”تو اللہ کی قسم کھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کہ تیرے پاس اس مدعی کی کوئی شے نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”راوی ابویحییٰ کا نام زیاد ہے جو کوفی ہے اور ثقہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5431)، وقد أخرجہ: مسند احمد 1/288) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی عطاء اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3774)
انظر الحديث السابق (3275)
مشكوة المصابيح (3774)
انظر الحديث السابق (3275)
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ.
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3618]
جناب سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے حجاج بن منہال رحمہ اللہ کی سند سے اس حدیث کے مثل روایت کیا، انہوں نے کہا کہ ”دو آدمیوں نے ایک جانور کے سلسلے میں جھگڑا کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3616)، (تحفة الأشراف: 14662) (صحیح) بما قبلہ»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128