سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
139. باب الأرض يصيبها البول
باب: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 381
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: صَلَّى أَعْرَابِيٌّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ فِيهِ: وَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُذُوا مَا بَالَ عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ فَأَلْقُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى مَكَانِهِ مَاءً، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ مُرْسَلٌ، ابْنُ مَعْقِلٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن معقل بن مقرن کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر انہوں نے اعرابی کے پیشاب کرنے کے اسی قصہ کو بیان کیا اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مٹی پر اس نے پیشاب کیا ہے وہ اٹھا کر پھینک دو اور اس کی جگہ پر پانی بہا دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے اس لیے کہ ابن معقل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 381]
جناب عبداللہ بن معقل بن مقرن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی (دیہاتی) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور مذکورہ بالا قصہ بیان کیا۔ اس روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس جگہ اس نے پیشاب کیا ہے اسے کھرچ دو اور پانی بہا دو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث مرسل ہے (یعنی تابعی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے) اور عبداللہ بن معقل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18944) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
السند مرسل وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
حدیث نمبر: 380
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَابْنُ عَبْدَةَ، في آخرين وهذا لفظ ابن عبدة، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، صُبُّوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ قَالَ: ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی (ابن عبدہ نے اپنی روایت میں کہا: اس نے دو رکعت نماز پڑھی)، پھر کہا: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا“، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کر دیا“، پھر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مسجد کے ایک کونے میں وہ پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور فرمایا: ”تم لوگ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، سختی کرنے کے لیے نہیں، اس پر ایک ڈول پانی ڈال دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 380]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی (دیہاتی) مسجد میں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، اس نے آ کر نماز پڑھی۔ ابن عبدہ نے کہا کہ دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر یہ دعا کی: «اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِيْ وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا» ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ کر۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے تو وسیع اور کشادہ کو تنگ کر دیا ہے۔“ (یعنی اللہ کی رحمت کو) پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ وہ مسجد کے کونے میں پیشاب کرنے لگا، لوگ جلدی سے اس کی طرف بڑھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا اور فرمایا: ”تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو دشواری والے نہیں۔ اس (پیشاب) پر پانی کا ایک ڈول ڈال دو۔“ راوی کو شک ہے کہ «سَجْلًا مِّنْ مَّاءٍ» کے لفظ ادا کیے یا «ذَنُوْبًا مِّنْ مَّاءٍ» کے۔ (معنی دونوں کا ایک ہی ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 112 (147)، سنن النسائی/الطھارة 45 (56)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 78 (529)، (تحفة الأشراف: 13139)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 58 (220)، صحیح مسلم/الطھارة (274، 275)، مسند احمد (2/239، 503) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وانظر مسند حميدي (944 وسنده صحيح)
وانظر مسند حميدي (944 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 4835
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ، قَالَ: بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے، خوشخبری دینا، نفرت مت دلانا، آسانی اور نرمی کرنا، دشواری اور مشکل میں نہ ڈالنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 4835]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو جب اپنے کسی کام کے لیے بھیجا کرتے تھے تو انہیں فرماتے: ”خوشخبری دینے والے بننا، نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا اور تنگی اور مشقت نہ ڈالنا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 4835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجھاد 3 (1732)، (تحفة الأشراف: 9069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/399، 407) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1732)