سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في الحجامة
باب: سینگی (پچھنا) لگوانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3857
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن دواؤں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر (بھلائی) ہے تو وہ سینگی (پچھنے) لگوانا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3857]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری دواؤں میں جن سے تم علاج کرتے ہو، اگر کوئی بہتر دوا ہے تو (ان میں سے ایک) سینگی لگوانا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 1(2037)، سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3476)، (تحفة الأشراف: 15011)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/342، 423) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3476 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (3476 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 2102
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَافُوخِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ"، وَقَالَ:" وَإِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوُونَ بِهِ خَيْرٌ، فَالْحِجَامَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: ”بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو ۱؎“، اور فرمایا: ”تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 2102]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابوہند نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں سینگی لگائی۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی بیاضہ! ابوہند کا (اپنے میں سے کسی کے ساتھ) نکاح کر دو۔ اور اس سے (اس کی کسی عزیزہ کا) نکاح لے لو۔“ اور فرمایا: ”اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں خیر ہے تو وہ سینگی لگانے ہی میں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 2102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15019)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3476)، مسند احمد (2/342، 423) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفو میں اعتبار دین کا ہو گا نہ کہ نسب اور پیشہ وغیرہ کا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن