سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. باب في الأذى يصيب النعل
باب: جوتے میں نجاست لگ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 386
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ،عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: إِذَا وَطِئَ الْأَذَى بِخُفَّيْهِ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ.
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے خف (موزوں) سے نجاست کو روندے تو ان کی پاکی مٹی ہے (یعنی بعد والی زمین جس پر وہ چلے گا وہ اسے پاک کر دے گی)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 386]
سیدنا سعید بن ابی سعید اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا، اس روایت میں ہے: ”جب کوئی اپنے موزوں سے نجاست کو روندے تو مٹی پاک کرنے والی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 14329) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن كثير الصنعاني: ضعيف لكثرة خطائه،ضعفه الجمھور واختلط أيضًا،انظر تحرير تقريب التهذيب (6251) ونھاية الإغتباط (105) ومع ذلك صححه ابن خزيمة (292) وابن حبان (248)!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
محمد بن كثير الصنعاني: ضعيف لكثرة خطائه،ضعفه الجمھور واختلط أيضًا،انظر تحرير تقريب التهذيب (6251) ونھاية الإغتباط (105) ومع ذلك صححه ابن خزيمة (292) وابن حبان (248)!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
حدیث نمبر: 385
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ. ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي. ح وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ الْمَعْنَى، قَالَ: أُنْبِئْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى، فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو (اس کے بعد کی) مٹی اس کو پاک کر دے گی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 385]
جناب سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے جوتے سے نجاست کو روندے تو مٹی اسے پاک کرنے والی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 14329) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جوتوں میں گندگی لگ جانے کی صورت میں اس کو زمین پر رگڑ دینے سے وہ پاک ہو جاتے ہیں، ان کو پہن کر نماز ادا کرنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
السند منقطع وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27