🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب في بيع المكاتب إذا فسخت الكتابة
باب: عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3929
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونُ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ".
عروہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء ۱؎ میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہو گی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہو گی جو آزاد کرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شخص بھی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کی شرط صحیح نہ ہو گی اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے، اللہ ہی کی شرط سچی اور مضبوط شرط ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3929]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں، وہ ان سے اپنے معاہدہ کتابت کے سلسلے میں مدد چاہتی تھیں اور اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہیں کر پائی تھیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ تیری کتابت میں ادا کر دوں اور تیرا ولاء مجھے حاصل ہو تو میں یہ کرنے کو تیار ہوں۔ اس نے جا کر اپنے گھر والوں (مالکوں) سے بات کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ (عائشہ) تجھ پر خرچ کر کے ثواب لینا چاہیں تو لے لیں، مگر ولاء ہمارے ہی لیے رہے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے خرید لو اور پھر آزاد کر دو۔ ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایسی ایسی شرطیں کرتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو کوئی ایسی شرط کرے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی شرط برحق اور مضبوط ہے۔ (یعنی اس کے ماسوا باطل ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ المکاتب 2 (2561)، الشروط 11 (2727)، صحیح مسلم/ العتق 2 (1504)، سنن الترمذی/ الوصایا 71 (2124)، سنن النسائی/ البیوع 83 (4659)، (تحفة الأشراف: 16580)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/81) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2661، 2717) صحيح مسلم (1504)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2915
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا حَاضِرٌ، قَالَ مَالِكٌ: عَرَضَ عَلَيَّ نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَاكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا کہ ہم اسے اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچیں گے کہ اس کا حق ولاء ۱؎ ہمیں حاصل ہو، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ خریدنے میں تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 2915]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ ایک لونڈی خرید کر آزاد کر دیں، تو لونڈی کے مالکوں نے کہا: ہم یہ آپ کو فروخت کر دیتے ہیں، لیکن اس کا ولاء ہمارے لیے رہے گا، (اس کی وفات پر اس کا مال ہم لیں گے یا نسبت ولاء ہم سے متعلق رہے گے۔) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان کی یہ بات) تیرے لیے کوئی مانع نہیں ہے، کیونکہ ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 2915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 73 (2169)، والمکاتب 2 (2562)، والفرائض 19 (6752)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن النسائی/البیوع 76 (4648)، (تحفة الأشراف: 8334)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 10 (18)، مسند احمد (2/28، 113، 153، 156) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ولاء اس میراث کو کہتے ہیں جو آزاد کردہ غلام یا عقد موالاۃ کی وجہ سے حاصل ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2169) صحيح مسلم (1504)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2916
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ وَوَلِيَ النِّعْمَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء اس شخص کا حق ہے جو قیمت دے کر خرید لے اور احسان کرے (یعنی خرید کر غلام کو آزاد کر دے)۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 2916]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جو قیمت ادا کرے اور احسان کرے (آزادی دلائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 2916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الفرائض 20 (6760)، سنن النسائی/الطلاق 30 (3479)، (تحفة الأشراف: 17432، 15991)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العتق 20 (1504)، سنن الترمذی/البیوع 33 (2126)، مسند احمد (6/170، 186، 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6754)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3930
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِهِ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا (کیسی لغو بات ہے) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3930]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنی کتابت کے سلسلے میں مدد لینے کے لیے آئیں اور کہا: تحقیق میں نے اپنے گھر والوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کیا کروں گی۔ چنانچہ آپ میری کچھ مدد کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر تیرے گھر والے (مالک) پسند کریں تو تیری یہ ساری رقم میں یکمشت انہیں دے دیتی ہوں اور تمہیں آزاد کر دیتی ہوں اور تیرا ولاء میرے لیے ہو گا۔ تو وہ ان کے پاس گئی اور (ہشام نے) زہری کی روایت کے مانند بیان کیا۔ اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے آخر میں یہ اضافہ ہے: لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ ایک کہتا ہے کہ اے فلاں! تم آزاد کر دو اور ولاء میرا رہا، حالانکہ ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2233)، (تحفة الأشراف: 17296) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے باب کی مطابقت اس طرح ہے کہ: مکاتب غلام کو بیچنا جائز نہیں، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کی خرید و فروخت کو جائز قرار دیا: تو گویا مکاتبت کا معاملہ فسخ کر دیا گیا تب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدا اور یہی مطابقت اگلی حدیث میں بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2563) صحيح مسلم (1504)
وانظر الحديث السابق (2233)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں