سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيٍّ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: 0 بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ 0".
ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحواء هو خير مما تجمعون» پڑھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3981]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی: ” ﴿بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ﴾ [سورة يونس: 58] “ یعنی «فَلْتَفْرَحُوا» اور «تَجْمَعُونَ» دونوں صیغہ خطاب کے ساتھ پڑھے، جبکہ حفص کی قراءت میں غیب کے صیغے میں «فَلْيَفْرَحُوا» اور «يَجْمَعُونَ» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 57) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں جگہ تاء کے ساتھ پڑھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3980
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ:"0 بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا 0"، قَالَ أَبُو دَاوُد: بِالتَّاءِ.
عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا» ”لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے“ (سورۃ یونس: ۵۸) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (تاء کے ساتھ) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3980]
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ” ﴿بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا﴾ [سورة يونس: 58] یعنی صیغہ خطاب کے ساتھ، جبکہ ہماری معروف قرآت صیغہ غائب کے ساتھ «فَلْيَفْرَحُوا» ہے۔“ ”کہہ دیجیے کہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے، چنانچہ اسی پر انہیں خوش ہونا چاہیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 57)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/123) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (3981)
انظر الحديث الآتي (3981)