🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب في خبر الجساسة
باب: جساسہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4325
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:" إِنَّهُ حَبَسَنِي، حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ؟ قُلْتُ: بَلْ أَطَاعُوهُ، قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء پڑھنے میں دیر کی، پھر نکلے تو فرمایا: مجھے ایک بات نے روک لیا، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولی: میں جساسہ ۱؎ ہوں، تم اس محل کی طرف جاؤ، تو میں اس محل میں آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے، میں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں دجال ہوں، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ میں نے کہا: ہاں (وہ ظاہر ہو چکے ہیں) اس نے پوچھا: لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے، تو اس نے کہا: یہ بہتر ہے ان کے لیے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4325]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر فرما دی۔ پھر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے تمیم داری رضی اللہ عنہ کی باتوں نے روک لیا تھا۔ وہ بیان کر رہے تھے کہ سمندری جزیروں میں سے ایک جزیرے میں ایک آدمی تھا، اور میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی تھی۔ پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں «الْجَسَّاسَةُ» جساسہ ہوں، اس محل میں چلے جاؤ، میں وہاں گیا تو اس میں ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہا تھا اور زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اوپر نیچے اچھل رہا تھا۔ میں نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں۔ کیا عربوں کا نبی آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا ان لوگوں نے اس کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ اطاعت کی ہے۔ اس نے کہا: یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18039) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جساسہ ایک عورت ہے اور اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ وہ ایک دابہ ہے بظاہر دونوں روایتیں متعارض ہیں اس تعارض کو حسب ذیل طریقے سے دفع کیا جاتا ہے: ۱- ہو سکتا ہے کہ دجال کے پاس دو جساسہ ہوں ایک دابہ ہو اور دوسری عورت ہو، ۲- یا وہ شیطانہ ہو جو کبھی دابہ کی شکل میں ظاہر ہوتی رہی ہو اور کبھی عورت کی شکل میں کیونکہ شیطان جو شکل چاہے اپنا سکتا ہے، ۳- یا اسے مجازاً دابہ کہا گیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول «وما من دابّۃ فی الارض إلا علی اللہ رزقھا»  میں ہے، اگلی روایت کے الفاظ «فرقنا منھا ان تکون شیطانۃ» سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5484)
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (4326)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4326
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حُسَيْنًا الْمُعَلِّمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي: أَنِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَخَرَجْتُ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَ: لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِنِّي مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَهْبَةٍ وَلَا رَغْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي حَدَّثْتُكُمْ، عَنِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي، أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ وَأَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبْ السَّفِينَةِ، فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرَةُ الشَّعْرِ، قَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي هَذَا الدَّيْرَ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدُّهُ وَثَاقًا مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَسَأَلَهُمْ عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ وَعَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، قَالَ: إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ وَإِنَّهُ يُوشَكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مَرَّتَيْنِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، قَالَتْ: حَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو پکارتے سنا: لوگو! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو میں نکلی اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نے نماز ختم فرمائی تو ہنستے ہوئے منبر پر جا بیٹھے، اور فرمایا: ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں جہنم سے ڈرانے اور جنت کا شوق دلانے کے لیے نہیں اکٹھا کیا ہے، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتلانے کے لیے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری نے جو نصرانی شخص تھے آ کر مجھ سے بیعت کی ہے، اور اسلام لے آئے ہیں، انہوں نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا ہے جو اس بات کے مطابق ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق بتائی ہے، انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سمندری کشتی پر سوار ہوئے، ان کے ہمراہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی بھی تھے، تو پورے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں ان کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر سورج ڈوبتے وقت وہ ایک جزیرہ کے پاس جا لگے، وہاں سے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے، وہاں انہیں ایک لمبی دم اور زیادہ بالوں والا ایک دابہ (جانور) ملا، لوگوں نے اس سے کہا: کم بخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے جواب دیا: میں جساسہ ہوں، تم اس شخص کے پاس جاؤ جو اس گھر میں ہے، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے، جب ہم سے اس نے اس شخص کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو، پھر وہاں سے جلدی سے بھاگے اور اس گھر میں جا پہنچے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الجثہ اور انتہائی طاقتور انسان ہے کہ اس جیسا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا، جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ اور ان سے بیسان ۲؎ کے کھجوروں، اور زعر ۳؎ کے چشموں کا حال پوچھا، اور نبی امی کے متعلق دریافت کیا، پھر اس نے اپنے متعلق بتایا کہ میں مسیح دجال ہوں، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، (پھر آپ نے کہا:) نہیں، بلکہ مشرق کی سمت میں ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دو بار مشرق کی جانب اشارہ کیا۔ فاطمہ کہتی ہیں: یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4326]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے کو منادی کرتے ہوئے سنا کہ «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ تو میں بھی چلی آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے۔ پھر فرمایا: کیا جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ڈرانے یا خوشخبری سنانے کے لیے جمع نہیں کیا ہے۔ میں نے تمہیں اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری عیسائی تھا، میرے ہاں آیا، بیعت کی اور اسلام قبول کیا اور اس نے مجھے ایک بات بیان کی ہے جو میری بات کی تائید میں ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق کہی ہے۔ اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک جہاز میں سوار ہوا، اس کے ساتھ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی تھے۔ جہاز کو طوفانی موجوں نے آ لیا جو انہیں ایک مہینہ تک پریشان کیے رہیں۔ اور وہ سورج غروب ہونے کے وقت ایک جزیرے کے پاس پہنچے اور ایک چھوٹی کشتی میں سوار ہو کر جزیرے میں جا اترے۔ تو انہیں ایک جانور ملا جس کی دم بھاری اور جسم پر بہت بال تھے۔ انہوں نے کہا: کمبخت! تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں «الْجَسَّاسَةُ» (جساسہ) ہوں۔ اس گرجے میں ایک آدمی ہے اس کے پاس جاؤ، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے۔ جب اس نے ہمارے سامنے آدمی کا نام لیا تو ہم اس سے ڈر گئے کہ کہیں شیطان نہ ہو۔ ہم جلدی سے چلے اور اس گرجے میں داخل ہوئے تو ایک بہت بڑا انسان دیکھا، اس قدر بڑا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا جسے بڑی سختی سے باندھا گیا تھا اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ اور حدیث بیان کی، اس نے ان سے (شام کے) نخلستانِ بیسان، چشمہ زغر اور نبیِ امی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا اور کہا کہ: میں ہی مسیح (دجال) ہوں۔ عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے، نہیں بلکہ مشرق کی طرف ہے۔ دو بار فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی ہے، اور بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفتن 24 (2942)، سنن الترمذی/الفتن 66 (2253)، ق /الفتن 33 (4074) (تحفة الأشراف: 18024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/374، 411، 412، 413، 415، 416، 418) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس میں ہے کہ اس نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عربوں کا حال پوچھا جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔
۲؎: بیسان: شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔
۳؎: زعر: یہ بھی شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2942)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں