سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب في بناء المساجد
باب: مساجد کی تعمیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتْ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کے بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے“۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تم مسجدیں اسی طرح سجاؤ گے جس طرح یہود و نصاریٰ سجاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 448]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ مساجد کو بہت زیادہ پختہ تعمیر کروں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”تم انہیں ضرور مزین کرو گے جیسے کہ یہود و نصاریٰ نے (اپنے عبادت خانے) مزین کیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6554)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 2 (740) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري عنعن (تقدم: 130)
وقول ابن عباس علقه البخاري في صحيحه (2/ 539 قبل ح 446)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
إسناده ضعيف
سفيان الثوري عنعن (تقدم: 130)
وقول ابن عباس علقه البخاري في صحيحه (2/ 539 قبل ح 446)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 449]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ لوگ مساجد میں باہم فخر نہیں کرنے لگیں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المساجد 2 (690)، سنن ابن ماجہ/المساجد 2 (739)، (تحفة الأشراف: 951)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/134، 175، 230) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”مساجد میں فخر“ یعنی مساجد کے بارے میں لوگ ایک دوسرے پر فخریہ باتیں کریں گے مثلاً ہماری مسجد بڑی ہے، اونچی ہے، خوبصورت ہے وغیرہ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ مساجد میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرنے کی بجائے فخریہ قسم کی باتیں کیا کریں گے، مسجد کی اصل زینت اور آرائش یہ ہے کہ وہاں پنچ وقتہ اذان و اقامت اور سنت کے مطابق نماز اپنے وقت پر ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (719)
مشكوة المصابيح (719)