سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ما جاء في الصلاة عند دخول المسجد
باب: مسجد میں داخل ہونے کے وقت کی نماز (تحیۃ المسجد) کا بیان۔
حدیث نمبر: 467
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْلِسَ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (تحیۃ المسجد) پڑھ لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 467]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 60 (444)، والتھجد 25 (1163)، صحیح مسلم/ المسافرین 11 (714)، سنن الترمذی/ الصلاة 119 (316)، سنن النسائی/ المساجد 37 (731)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 57 (1013)، (تحفة الأشراف: 12123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة 18(57)، مسند احمد (5/295، 296، 303)، سنن الدارمی/الصلا ة 114 (1433) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (444) صحيح مسلم (714)
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ" أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَارْكَعْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟“، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اٹھ کر نماز پڑھو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 1115]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جمعہ کے دن ایک شخص آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 25 (1166)، والجمعة 32 (930)، 33 (931)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن الترمذی/الصلاة 250 (الجمعة 15) (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، (تحفة الأشراف: 2511)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1113)، مسند احمد (3/297، 308، 369)، سنن الدارمی/الصلاة 96 (1406) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آئے تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (930) صحيح مسلم (875)
حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ،وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ" أَصَلَّيْتَ شَيْئًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم نے کچھ پڑھا؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 1116]
جناب اعمش، ابوسفیان سے، وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش، ابوصالح سے، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، دونوں کا بیان ہے کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تم نے کوئی نماز پڑھی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مختصر سی دو رکعتیں پڑھ لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1114)، (تحفة الأشراف: 2294، 12368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (875)