🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب في رد الإرجاء
باب: ارجاء کی تردید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4677
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو: ایمان باللہ کیا ہے؟ وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4677]
ابوحمزہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے فرمایا: جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا جانتے ہو اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف ایک اللہ کے معبودِ حقیقی ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 40 (53)، العلم 25 (87)، المواقیت 2 (523)، الزکاة 1 (1398)، فرض الخمس 2 (3095)، المناقب 5 (3510)، المغازي 69 (4368)، الأدب 98 (6176)، خبر الواحد 5 (7266)، التوحید 56 (7556)، صحیح مسلم/الإیمان 6 (17)، الأشربة 6 (1995)، سنن الترمذی/السیر 39 (1599)، الإیمان 5 (2611)، سنن النسائی/الإیمان 25 (5036)، (تحفة الأشراف: 6524)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1 /128، 274، 291، 304، 334، 340، 352، 361)، وقد مضی ہذا الحدیث برقم: (3692) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (53) صحيح مسلم (17)
وانظر الحديث السابق (3692)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ فَجَاءَ رَجُل أَشْعَثُ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَحْمَرَ، فَقُلْنَا: كَأَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: أَجَلْ قُلْنَا: نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الأَدِيمَ الَّتِي فِي يَدِكَ، فَنَاوَلَنَاهَا فَقَرَأْنَاهَا فَإِذَا فِيهَا مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى بَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ:" إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَأَدَّيْتُمُ الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفِيَّ أَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ"، فَقُلْنَا مَنْ كَتَبَ لَكَ هَذَا الْكِتَابَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں ہم مربد (ایک گاؤں کا نام ہے) میں تھے اتنے میں ایک شخص آیا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے کہا: تم گویا کہ صحراء کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: ہاں ہم نے کہا: چمڑے کا یہ ٹکڑا جو تمہارے ہاتھ میں ہے تم ہمیں دے دو، اس نے اس کو ہمیں دے دیا، ہم نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زہیر بن اقیش کے لیے ہے (انہیں معلوم ہو کہ) اگر تم اس بات کی گواہی دینے لگ جاؤ گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے لگو گے اور مال غنیمت میں سے (خمس جو اللہ و رسول کا حق ہے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ «صفی» کو ادا کرو گے تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہو گی، تو ہم نے پوچھا: یہ تحریر تمہیں کس نے لکھ کر دی ہے؟ تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 2999]
جناب یزید بن عبداللہ رحمہ اللہ (عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم (بصرہ کے محلہ) مربد میں تھے کہ ایک شخص آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا لیے ہوئے تھا، ہم نے کہا: تم گویا دیہات کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ ہم نے کہا: یہ تیرے ہاتھ میں چمڑے کا ٹکڑا کیسا ہے، ذرا ہمیں دکھاؤ؟ وہ اس نے ہمیں دے دیا، ہم نے اسے پڑھا تو اس میں تحریر تھا: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے۔ تم لوگ اگر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ» کی شہادت دو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، غنیمت میں سے پانچواں حصہ (خمس) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ خاص «الصَّفِيُّ» ادا کرو، تو اللہ اور اس کے رسول کی امان سے امن میں ہو۔ ہم نے پوچھا: تمہیں یہ تحریر کس نے دی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 2999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15683)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/77، 78، 363) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الصحابي اسمه النمر بن تولب الشاعر

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3693
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ:" أَنْهَاكُمْ عَنْ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ، وَلَكِنْ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 3693]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس کے لوگوں سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے کھدے ہوئے برتن، روغن زفت لگے برتن، سبز رنگ کے روغن ملے ہوئے برتن اور کدو کے برتن (تونبے) سے منع کرتا ہوں اور بڑی مشک سے بھی جس کو اوپر سے کاٹا گیا ہو اور پیندے کی طرف سے سوراخ نہ ہوں منع کرتا ہوں، لیکن اپنے مشکیزے سے پیا کرو اور پھر اس کا منہ باندھ دیا کرو۔ (یعنی اس میں نبیذ بنایا کرو)۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 3693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 6 (1992)، سنن النسائی/الأشربة 38 (5649)، (تحفة الأشراف: 15093، 14470)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/491، 414) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1993)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں