🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب في قتال الخوارج
باب: خوارج سے قتال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4760
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، الْمَعْنَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ، تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ , قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ هِشَامٌ بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ، فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ؟ , قَالَ ابْنُ دَاوُدَ: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ , قَالَ: لَا، مَا صَلَّوْا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف (نیک اعمال) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر (خلاف شرع امور) بھی دیکھو گے، تو جس نے منکر کا انکار کیا، (ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے (جس نے منکر کا) اپنی زبان سے انکار کیا) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ (سلیمان ابن داود طیالسی) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 16 (1854)، سنن الترمذی/الفتن 78 (2265)، (تحفة الأشراف: 18166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/295، 302، 305، 321) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: منکر اور خلاف شرع کام کا انکار کرنا زبان سے نفاق سے براءت دلاتا ہے، اور جو شخص دل سے برا جانتا اور اس میں شریک نہیں ہوتا وہ گناہ سے بچ جاتا ہے، لیکن جو پسند کرے اور اس میں شریک ہو تو وہ انہی جیسا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1854)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4761
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، أخبرنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، أخبرنا الْحَسَنُ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَمَنْ كَرِهَ، فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ، فَقَدْ سَلِمَ" قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي مَنْ أَنْكَرَ بِقَلْبِهِ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ.
اس سند سے بھی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ناپسند کیا تو وہ بری ہو گیا اور جس نے کھل کر انکار کر دیا تو وہ محفوظ ہو گیا قتادہ کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جس نے دل سے اس کا انکار کیا اور جس نے دل سے اسے ناپسند کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18166) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4760)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں