🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما يقال عند الغضب
باب: غصے کے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4781
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، قَالَ:" اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا هَذَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" فَقَالَ الرَّجُلُ: هَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ؟.
سلیمان بن صرد کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا، وہ کلمہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم»، تو اس آدمی نے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے جنون ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4781]
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے حتیٰ کہ ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور گلے کی رگیں پھول گئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک کلمہ معلوم ہے، اگر یہ شخص وہ کلمہ کہہ لے تو اس سے یہ کیفیت دور ہو جائے گی۔ (اور وہ کلمہ یہ ہے) «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔مگر وہ آدمی کہنے لگا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں مجنون ہوں؟ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3282)، الأدب 44 (6050)، 75 (6115)، صحیح مسلم/البر والصلة 30 (2610)، (تحفة الأشراف: 4566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/394) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: غالباً اس نے یہ سمجھا کہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» پڑھنا جنون ہی کے ساتھ مخصوص ہے، یا ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی منافق یا غیر مہذب اور غیر مہذب بدوی رہا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2382) صحيح مسلم (2610)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4780
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ:" اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى خُيِّلَ إِلَيَّ أَنَّ أَنْفَهُ يَتَمَزَّعُ مِنْ شِدَّةِ غَضَبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُهُ مِنَ الْغَضَبِ فَقَالَ: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"، قَالَ: فَجَعَلَ مُعَاذٌ يَأْمُرُهُ فَأَبَى وَمَحِكَ، وَجَعَلَ يَزْدَادُ غَضَبًا.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کو بہت شدید غصہ آیا یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مارے غصے کے اس کی ناک پھٹ جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا عرض کیا: کیا ہے وہ؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ کہے «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں تو معاذ اسے اس کا حکم دینے لگے، لیکن اس نے انکار کیا، اور لڑنے لگا، اس کا غصہ مزید شدید ہوتا چلا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4780]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے۔ ان میں ایک اس قدر غضبناک ہو گیا کہ میں نے سمجھا کہ انتہائی غصے سے اس کی ناک ہی چر جائے گی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے، اگر یہ کہہ لے تو اس کا یہ غصہ دور ہو جائے۔ (معاذ رضی اللہ عنہ نے) کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہہ لے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» اے اللہ! میں شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔چنانچہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس شخص سے کہنے لگے کہ یہ کلمہ پڑھ لے مگر اس نے انکار کر دیا بلکہ اور لڑنے لگا اور غصے ہونے لگا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 52 (3452)، (تحفة الأشراف: 11342)، وقد أ خرجہ: مسند احمد (5/240، 244) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
سنده ضعيف
ترمذي (3452)
عبد الرحمٰن بن أبي ليلي لم يدرك سيدنا معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه
و للحديث شاھد ضعيف عند النسائي في الكبري (10223) فيه عبد الملك بن عمير مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں