🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب السِّوَاكِ
باب: مسواک کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 48
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ تَوضُّؤَ ابْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا وَغَيْرَ طَاهِرٍ، عَمَّ ذَاكَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِيهِ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ حَدَّثَهَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا وَغَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، أُمِرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ"، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً، فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ رَوَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا: آپ بتائیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا سبب (خواہ وہ باوضو ہوں یا بے وضو) کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے ہوں یا بے وضو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم دشوار ہوا، تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا خیال تھا کہ ان کے پاس (ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی) قوت ہے، اس لیے وہ کسی بھی نماز کے لیے اسے چھوڑتے نہیں تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 48]
محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عبداللہ سے کہا: (تمہارے والد) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وضو سے ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے (پابندی سے) وضو کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: مجھے اسماء بنت زید بن خطاب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے اسے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (پہلے پہل) حکم دیا گیا تھا کہ ہر نماز کے لیے وضو کیا کریں، خواہ پہلے وضو سے ہوں یا بے وضو۔ مگر جب انہیں مشقت ہوئی، تو حکم دیا گیا کہ ہر نماز کے لیے مسواک کیا کریں۔ چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سمجھتے تھے کہ ان میں ہمت ہے، لہٰذا وہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن سعد نے محمد بن اسحاق سے روایت کرتے ہوئے (عبداللہ کی بجائے) عبیداللہ بن عبداللہ کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 48]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5247)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/225)، سنن الدارمی/الطھارة 3 (684) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (426)
ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد (5/ 225)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 46
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں مومنوں پر دشوار نہ سمجھتا تو ان کو نماز عشاء کو دیر سے پڑھنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 46]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اہل ایمان کے لیے مشقت نہ ہوتی تو میں انہیں نماز عشاء کو تاخیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 46]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 15 (252)، سنن النسائی/الطھارة 7 (7)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 7 (287)، موطا امام مالک/الطھارة 32 (114)، (تحفة الأشراف: 13673)، وقد أخرجہ: خ/الجمعة 8 (887)، التمني 9 (7240)، سنن الترمذی/الطہارة 18(22)، حم (2/245، 250، 399، 400،460، 517، 531)، سنن الدارمی/الطھارة 18 (710) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة العشاء
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (887، 7240) صحيح مسلم (252)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں