سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. باب فِي الشَّفَاعَةِ
باب: سفارش کا بیان۔
حدیث نمبر: 5131
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اشْفَعُوا إِلَيَّ لِتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے سفارش کرو تاکہ تم کو (سفارش کا) ثواب ملے، اور فیصلہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کرے گا جو اسے منظور ہو گا“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5131]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس (اپنے ساتھیوں کی) سفارشیں کیا کرو تاکہ ثواب پاؤ اور فیصلہ تو وہی ہو گا جو اللہ چاہے گا اور اپنے نبی کی زبان سے کرائے گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 21 (1432)، الأدب 36 (6027)، 37 (6028)، التوحید 31 (7476)، صحیح مسلم/البر 44 (2627)، سنن الترمذی/العلم 14 (2672)، سنن النسائی/الزکاة 65 (2557)، (تحفة الأشراف: 9036)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/400، 409، 413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6027) صحيح مسلم (2627)
حدیث نمبر: 5132
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ:" اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، فَإِنِّي لَأُرِيدُ الْأَمْرَ فَأُؤَخِّرُهُ كَيْمَا تَشْفَعُوا فَتُؤْجَرُوا، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفارش کرو، اجر پاؤ گے، میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، تو اسے مؤخر کر دیتا ہوں، تاکہ تم سفارش کر کے اجر کے مستحق بن جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سفارش کرو تم اجر پاؤ گے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5132]
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے (انہوں نے اپنے احباب سے کہا) کہ ”سفارش کر دیا کرو، اجر پاؤ گے۔“ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سفارش کیا کرو تمہیں اجر ملے گا۔“ بلاشبہ (بعض اوقات) میں ایک کام کر دینا چاہتا ہوں مگر اسے (کسی قدر) ٹالتا رہتا ہوں تاکہ تم سفارش کرو اور ثواب پاؤ۔ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سفارش کیا کرو اجر پاؤ گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 65 (2558)، (تحفة الأشراف: 11447) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (1432) ومسلم (2627)
رواه البخاري (1432) ومسلم (2627)