🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
139. باب كم مرة يسلم الرجل في الاستئذان
باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5186
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ , فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ، وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5186]
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر جاتے تو اس کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوا کرتے تھے، بلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو کر کھڑے ہوتے اور فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» السلام علیکم، السلام علیکماور ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5201)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/189) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4673)
أخرجه أحمد (4/189) والبخاري في الأدب المفرد (1078) بقية بن الوليد صرح بالسماع المسلسل وتابعه إسماعيل بن عياش ومحمد بن عبد الرحمن ھو الحميري الحمصي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5174
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ، قَالَ عُثْمَانُ: سَعْدٌ، فَوَقَفَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، قَالَ عُثْمَانُ: مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا عَنْكَ أَوْ هَكَذَا فَإِنَّمَا الِاسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ".
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، (عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ (یعنی دروازہ سے ہٹ کر) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5174]
سیدنا ہذیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص، اور بقول عثمان بن ابی شیبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کرنے لگے، عثمان بن ابی شیبہ نے وضاحت کی کہ وہ دروازے کے عین سامنے کھڑے ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اس طرف ہٹ کر کھڑے ہو یا اس طرف، اجازت لینے کا حکم نظر ہی کی وجہ سے ہے (کہ انسان اندر نہ جھانکے)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3946) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں