سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. باب ما جاء في القراءة في الظهر
باب: ظہر کی قرآت کا بیان۔
حدیث نمبر: 799
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بِبَعْضِ هَذَا، وَزَادَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ: بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَزَادَ. عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ:" وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ".
اس سند سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث کے بعض حصے مروی ہیں، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ پچھلی دونوں رکعتوں میں (صرف) سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے اور حسن بن علی نے بواسطہ «يزيد بن هارون عن همام» اتنی زیادتی اور کی ہے کہ آپ پہلی رکعت اتنی لمبی کرتے جتنی دوسری نہیں کرتے تھے اور اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں (بھی کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 799]
جناب عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس مذکورہ حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور اضافہ کیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھتے۔“ (یزید بن ہارون نے) ہمام سے یہ مزید بیان کیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت اس قدر لمبی کرتے کہ دوسری اتنی لمبی نہ کرتے اور ایسے ہی عصر اور فجر میں بھی۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12108) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (776) صحيح مسلم (451)
حدیث نمبر: 798
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ الْحَجَّاجِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَأَبِي سَلَمَةَ: ثُمَّ اتَّفَقَا عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں (ایک آدھ) آیت سنا دیتے تھے، اور آپ ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے «فاتحة الكتاب» اور «سورة» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 798]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ہمیں کوئی آیت سنوا بھی دیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت کو طویل کرتے اور دوسری کو مختصر، اور ایسے ہی فجر میں ہوتا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”شیخ مسدد نے فاتحہ اور سورت کا ذکر نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762)، 107 (776)، 109 (887)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن النسائی/الافتتاح 56(975)، 57(976)، 58 (977)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 8 (829)، (تحفة الأشراف: 12108)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/383، 5/295، 297، 300، 301، 305، 307، 308، 310، 311، 383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (762) صحيح مسلم (451)