سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. . باب : ما جاء في الركعتين قبل الفجر
باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1146
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو دو رکعت پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکلتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1146]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو دو رکعت نماز ادا فرماتے، پھر نماز کے لیے (مسجد میں) تشریف لے جاتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16037، ومصباح الزجاجة: 408)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/77، 87، 98، 111، 115) (صحیح)» (سند میں ابو اسحاق السبیعی مدلس و مختلط راوی ہیں، لیکن اختلاط سے پہلے ان سے ابو الاحوص نے روایت کی ہے، چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم نے ابو الاحوص کے واسطہ سے روایت فرمائی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
حدیث نمبر: 415
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 415]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین تین بار اعضاء دھو کر وضو کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 14632، 17670) (صحیح)» (سند میں خالد بن حیان ہیں، جو روایت میں غلطیاں کرتے ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن