سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. . باب : ما جاء في الوتر في السفر
باب: سفر میں وتر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا، وَكَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ، قُلْتُ: وَكَانَ يُوتِرُ؟، قَالَ: نَعَمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں، اور رات میں تہجد پڑھتے تھے، سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں) وتر پڑھتے تھے؟ کہا: جی ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1193]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت (فرض) ادا کرتے تھے، اس سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں) رات کو تہجد بھی پڑھتے تھے۔“ (سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں) وتر بھی پڑھتے تھے؟“ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6747، ومصباح الزجاجة: 420)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/86) (ضعیف جدًا)» (اس حدیث کی سند میں جابر بن یزید الجعفی کذاب راوی ہے، لیکن اس باب میں صحیح احادیث آئی ہیں جو ہمارے لئے کافی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جابر الجعفي: ضعيف جدًا مدلس
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
إسناده ضعيف
جابر الجعفي: ضعيف جدًا مدلس
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
حدیث نمبر: 1067
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تو دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے یہاں تک کہ آپ یہاں لوٹ آتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1067]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس مدینہ شریف سے (سفر پر) روانہ ہوتے تھے تو دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے (پورے سفر میں دوگانہ پڑھتے رہتے) حتی کہ واپس مدینہ شریف پہنچ جاتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/99، 124) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حالانکہ مدینہ سے نکلتے ہی کافروں کا ڈر نہ ہوتا، پھر معلوم ہوا کہ بغیر ڈر کے بھی سفر میں قصر درست ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر سے نکل جائے اس وقت سے قصر شروع کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَهُ وَانْصَرَفَ، قَالَ: فَالْتَفَتَ، فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ صَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهُ يَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21".
حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھے، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہم ان کے ساتھ لوٹے، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنت پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا: اگر مجھے نفلی نماز (سنت) پڑھنی ہوتی تو میں پوری نماز پڑھتا، میرے بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، اور پوری زندگی ان سب لوگوں کا یہی عمل رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ (سورۃ الاحزاب: ۲۱) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1071]
حضرت حفص بن عاصم بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ایک سفر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا۔ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، ہم نماز سے فارغ ہوئے اور وہ بھی فارغ ہوئے۔ انہوں نے نظر اٹھائی تو کچھ لوگ نماز پڑھتے نظر آئے، فرمایا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”نفل (یا سنت وغیرہ) پڑھ رہے ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اگر مجھے نفلی نماز پڑھنی ہوتی تو میں اپنی فرض نماز ہی پوری کر لیتا۔ بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفروں میں رہا ہوں۔ وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں کبھی دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی، پھر جب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہم سفر رہا تو (انہیں بھی ایسے ہی دیکھا کہ) انہوں نے دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی، پھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہم سفر رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی، پھر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی۔ ان سب کا اپنی اپنی وفات تک یہی عمل رہا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اچھا نمونہ ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 11 (1101)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (689)، سنن ابی داود/الصلاة 276 (1223)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 5 (1459)، (تحفة الأشراف: 6693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/224)، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1547) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تو نماز ایسی عبادت میں بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنت سے زیادہ پڑھنا مناسب نہ جانا، یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کمال اتباع ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں بہت سخت تھے، یہاں تک کہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان مقامات پر ٹھہرتے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرتے تھے، اور وہیں نماز ادا کرتے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ سفر میں نماز کی سنتوں کے پڑھنے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، اکثر کا یہ قول ہے کہ اگر پڑھے گا تو ثواب ہو گا، اور خود ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ترمذی کی روایت میں ظہر کی سنتیں پڑھنا منقول ہے، اور بعض علماء کا یہ قول ہے کہ سفر میں صرف فرض ادا کرے، سنتیں نہ پڑھے، ہاں عام نوافل پڑھنا جائز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسفار مبارکہ میں فرض نماز سے پہلے یا بعد کی سنتوں کو نہیں پڑھتے تھے، سوائے فجر کی سنت اور وتر کے کہ ان دونوں کو سفر یا حضر کہیں نہیں چھوڑتے تھے، نیز عام نوافل کا پڑھنا آپ سے سفر میں ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1194
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَا:" سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَهُمَا تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ".
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نماز دو رکعت مقرر کی ہے، یہ دو رکعت پوری ہے ناقص نہیں، اور سفر میں نماز وتر پڑھنا سنت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1194]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نماز دو رکعت مقرر فرمائی ہے۔ یہ مکمل نماز ہے، ناقص نہیں، اور سفر میں وتر پڑھنا سنت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5775، 7116، ومصباح الزجاجة: 421)، مسند احمد (1/241) (ضعیف جدا)» (سند میں جابر جعفی متروک اور کذاب راوی ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 1350)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420