🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
181. باب : ما جاء في كم يصلي بالليل
باب: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1363
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ نَامَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ:" فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ:" فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس سوئے، وہ کہتے ہیں: میں تکیہ کی چوڑان میں لیٹا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی اس کی لمبائی میں لیٹے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، اور نیند کو زائل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرنے لگے، پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد ایک لٹکی ہوئی مشک کے پاس گئے، اور اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کی بغل میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا، اور میرے دائیں کان کو ملتے رہے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پھر وتر ادا کی، پھر لیٹ گئے، جب مؤذن آیا تو دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر نماز (فجر) کے لیے نکل گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1363]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سوئے اور وہ ان کی خالہ تھیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا آدھی رات سے تھوڑا سا پہلے یا تھوڑا سا بعد کا وقت تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے اور نیند دور کرنے کے لیے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات [سورة آل عمران: 190-200] پڑھیں، پھر ایک (کھونٹی پر) لٹکی ہوئی مشک کی طرف گئے اور اس سے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا، میں نے اسی طرح کیا (آیات پڑھیں اور وضو کیا) جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (بائیں) پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ (اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز شروع کر دی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا (اور مجھے اپنے پیچھے سے اپنے دائیں پہلو میں کر لیا) اور میرا دایاں کان پکڑ کر مروڑنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھا۔ پھر لیٹ گئے حتیٰ کہ مؤذن آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر نماز پڑھنے کے لیے گھر سے (مسجد میں) تشریف لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 5 37 (183)، الأذان 58 (698)، 77 (726)، 161 (859)، الوتر 1 (992)، العمل في الصلاة 1 (1198)، الدعوات 10 (6316)، التوحید 27 (7452)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1367)، سنن الترمذی/الشمائل 38 (265)، سنن النسائی/الأذان 41 (687)، التطبیق 63 (1122)، قیام اللیل 9 (1621)، (تحفة الأشراف: 6362)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (11)، مسند احمد (1/245، 343، 358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 423
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ كُرَيْبًا ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ،" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، اور آپ نے ایک پرانے مشکیزے سے بہت ہی ہلکا وضو کیا، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 423]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رات کو اپنی خالہ (ام المؤمنین) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرا۔ (رات کو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشک سے وضو کیا اور وضو بھی مختصر کیا (کم پانی استعمال کیا)، میں اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 5 (138)، والأذان 161 (726)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الصلاة 57 (232)، سنن النسائی/ الغسل 29 (443)، (تحفة الأشراف: 6356)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 244، 283، 330) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی بہت جلد اور تھوڑے پانی سے وضو کیا، اور یہ وقت تہجد کا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ،" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز (تہجد) کے لیے اٹھے، میں بھی اٹھا اور جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 973]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک رات اپنی خالہ (ام المؤمنین) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرا۔ رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز (تہجد) ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں آپ کی بائیں طرف جا کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دائیں طرف کھڑا کر لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 42 (117)، الأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، اللباس 71 (5919)، (تحفة الأشراف: 5769)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 70 (610)، سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، مسند احمد (1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ نفلی نماز میں جماعت صحیح ہے، اور دوسرے یہ کہ ایک لڑکے کے ساتھ ہونے سے جماعت ہو جاتی ہے، تیسرے یہ کہ اگر مقتدی اکیلا ہو تو امام کے دائیں طرف کھڑے ہو، چوتھی یہ کہ جس نے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں