سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب : من بلغ علما
باب: علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 235
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں انہیں چاہیئے کہ جو لوگ یہاں حاضر نہیں ہیں، ان تک (جو کچھ انہوں نے سنا ہے) پہنچا دیں“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 235]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو لوگ موجود ہیں، وہ انہیں پہنچا دیں جو موجود نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 299 (1278)، سنن الترمذی/الصلاة 192 (419)، (تحفة الأشراف: 8570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1278) ترمذي (419)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1278) ترمذي (419)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
حدیث نمبر: 3058
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا بَلَدُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، قَالُوا: شَهْرُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ وَدِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ، فِي هَذَا الشَّهْرِ، فِي هَذَا الْيَوْمِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ"، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”آج کون سا دن ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے (اللہ کے احکام تم کو) پہنچا دئیے ہیں“؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (آپ نے پہنچا دئیے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 3058]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا، اس حج کے موقع پر قربانی کے دن جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے۔ (اس وقت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”قربانی کا دن ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج اکبر کا دن ہے اور تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح اس مہینے کے اس دن میں اس شہر کا احترام ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ رہ۔“”پھر لوگوں کو الوداع کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”یہ «حَجَّةُ الْوَدَاعِ» یعنی الوداعی حج ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 3058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 132 (1742 تعلیقاً)، سنن ابی داود/المناسک 67 (1945)، (تحفة الأشراف: 8514) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ کا آخری حج ہے، اس کے بعد آپ ہمیں جدائی کا داغ دے جائیں گے، نیز اس حج کے تھوڑے دنوں کے بعد آپ کی وفات ہوئی اس واسطے اس کو حجۃ الوواع کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح