🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب : الخطبة يوم النحر
باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3058
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا بَلَدُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، قَالُوا: شَهْرُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ وَدِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ، فِي هَذَا الشَّهْرِ، فِي هَذَا الْيَوْمِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ"، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے (اللہ کے احکام تم کو) پہنچا دئیے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (آپ نے پہنچا دئیے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 132 (1742 تعلیقاً)، سنن ابی داود/المناسک 67 (1945)، (تحفة الأشراف: 8514) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ کا آخری حج ہے، اس کے بعد آپ ہمیں جدائی کا داغ دے جائیں گے، نیز اس حج کے تھوڑے دنوں کے بعد آپ کی وفات ہوئی اس واسطے اس کو حجۃ الوواع کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥هشام بن الغاز الجرشي، أبو العباس، أبو عبد الله
Newهشام بن الغاز الجرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥صدقة بن خالد القرشي، أبو العباس
Newصدقة بن خالد القرشي ← هشام بن الغاز الجرشي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← صدقة بن خالد القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6043
حرم عليكم دماءكم وأموالكم وأعراضكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا
صحيح البخاري
6785
دماءكم وأموالكم وأعراضكم إلا بحقها كحرمة يومكم
صحيح البخاري
1742
حرم عليكم دماءكم وأموالكم وأعراضكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا
سنن ابن ماجه
235
ليبلغ شاهدكم غائبكم
سنن ابن ماجه
3058
دماؤكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة هذا البلد في هذا الشهر في هذا اليوم هل بلغت قالوا نعم فطفق النبي اللهم اشهد ثم ودع الناس فقالوا هذه حجة الوداع
Sunan Ibn Majah Hadith 3058 in Urdu