سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : دية شبه العمد مغلظة
باب: قتل عمد کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل میں دیت سخت ہے۔
حدیث نمبر: 2629
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے بارہ ہزار درہم مقرر کئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2629]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی مقدار بارہ ہزار (درہم) مقرر فرمائی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4546)، سنن النسائی/القسامة 29 (4807)، سنن الترمذی/الدیات 2 (1388، 1389)، (تحفة الأشراف: 6165)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات 11 (4808) (ضعیف)» (اس سند میں اضطراب ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2245)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2632
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ وَمَا نَقَمُوا إِلا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة التوبة آية 74 قَالَ: بِأَخْذِهِمُ الدِّيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر فرمائی، اور فرمان الٰہی «وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله» (سورۃ التوبہ: ۷۴) ”کفار اسی بات سے غصہ ہوئے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے انہیں مالدار کر دیا“ کا یہی مطلب ہے کہ دیت لینے سے ان (مسلمانوں) کو مالدار کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2632]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دیت کی مقدار بارہ ہزار (درہم) مقرر فرمائی۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [سورة التوبة: 74] کا یہی مطلب ہے: ”یہ صرف اس بات سے ناراض ہو رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے دولت مند کر دیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یعنی انہوں نے دیت وصول کی (اور اس طرح دولت مند ہو گئے اس کے بعد بجائے شکر گزاری کا راستہ اختیار کرنے کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا راستہ اختیار کیا۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر رقم: (2629) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن