سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : الأكل على الخوان والسفرة
باب: میز اور دستر خوان پر کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3293
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستر خوان پر کھاتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3293]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی میز پر رکھ کر کھانا کھاتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 8 (5385)، الرقاق 16 (6450)، سنن الترمذی/الأطعمة 1 (1888)، الزہد 38 (2363)، (تحفة الأشراف: 1174)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3292
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ الْإِسْكَافِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ، وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ، قَالَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوان (میز) پر کبھی نہیں کھایا، اور نہ «سکرجہ» (چھوٹی طشتری) ۱؎ میں کھایا۔ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: دستر خوان پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3292]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر رکھ کر کھانا نہیں کھایا، اور نہ طشتری اور تھالی میں۔“ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: ”پھر لوگ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”دستر خوان پر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 8 (5386)، 23 (5415)، سنن الترمذی/الأطعمة 1 (1788)، (تحفة الأشراف: 1444)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «سکرجہ» (چھوٹی طشتری) میں چٹنی اور کھٹائی وغیرہ رکھی جاتی ہے جس سے کھانے کی خواہش بڑھتی ہے یہ عیش پسندوں کا طریقہ ہے آپ کو یہ چیز پسند نہیں تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري