🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : التشديد في البول
باب: پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 349
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَذَّبُ فِي الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُعَذَّبُ فِي الْغَيْبَةِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (جس سے بچنا مشکل تھا) ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، اور دوسرا غیبت (چغلی) کرنے کی وجہ سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11657، ومصباح الزجاجة: 144)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/35، 39) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (کہ جس سے بچنا مشکل تھا)، ایک شخص تو پیشاب (کی چھینٹوں) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت (چغلی) کیا کرتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 56 (216)، 57 (218)، الجنائز81 (1361)، 88 (1378)، الأدب 46 (6552)، 49 (6055)، صحیح مسلم/الطہارة 34 (292)، سنن ابی داود/الطہارة 11 (20)، سنن الترمذی/الطہارة 53 (70)، سنن النسائی/الطہارة 27 (31)، الجنائز 116 (2070، 2071)، (تحفة الأشراف: 5747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1 /225)، سنن الدارمی/الطہارة 61 (766) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں