سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر
باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4013
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ . عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ , فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا مَرْوَانُ , خَالَفْتَ السُّنَّةَ , أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ , وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا , فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا , فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ , فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ , وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4013]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا (اور عید گاہ میں رکھا) اور نمازِ عید سے پہلے خطبہ شروع کیا۔ ایک آدمی نے کہا: ”مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے۔ تو نے اس دن منبر نکالا، حالانکہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں) وہ نہیں نکالا جاتا تھا۔ اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ (اس دور میں) خطبے سے ابتدا نہیں کی جاتی تھی۔“ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس شخص نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ» ”تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے اور ہاتھ سے ختم کر سکتا ہو تو ہاتھ سے ختم کر دے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے (منع کرے اور سمجھائے) اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (نفرت کرے اور اس کے خاتمہ کی خواہش رکھے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، الملاحم 17 (4340)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ 17 (5011، 5012)، (تحفة الأشراف: 12142)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9، 10، 49، 52، 54، 92) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1275
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا؟، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا، فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (گورنر) مروان عید کے دن (عید گاہ) منبر لے گئے، اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت عمل کیا، عید کے دن منبر لے آئے، جب کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا، اور آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا جب کہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا تھا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص خلاف شرع کام ہوتے ہوئے دیکھے اور اپنے ہاتھ سے اسے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر زبان سے بھی کچھ نہ کہہ سکتا ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 1275]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا، (اور عید گاہ میں منبر پر خطبہ دیا) اور نماز سے پہلے خطبہ دیا، ایک آدمی نے اٹھ کر کہا: ”اے مروان! آپ نے خلافِ سنت کام کیا ہے۔ آپ نے عید کے دن منبر نکالا ہے (مسجد سے اٹھا کر عید گاہ میں لائے ہیں) حالانکہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) وہ نکالا نہیں جاتا تھا، اور آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، حالانکہ ابتدا خطبے سے نہیں ہوا کرتی تھی (بلکہ پہلے نماز ہوتی تھی)۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس شخص نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو شخص کوئی برائی دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کرنے کی طاقت ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے تبدیل کر دے، اگر طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے (منع کر دے)، اگر زبان سے (منع کرنے کی) طاقت نہ ہو تو دل سے (نفرت کرے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، سنن الترمذی/الفتن 11 (7172)، سنن النسائی/الإیمان 17 (5011)، (تحفة الأشراف: 4085)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 6 (956)، مسند احمد (3/10، 49، 52، 53، 54، 92) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایمان کا اخیر درجہ ہے اگر خلاف شرع کام کو دل سے بھی برا نہ جانے بلکہ ایسے کاموں پر چپ رہے اور دل میں بھی نفرت نہ لائے تو اس شخص میں ذرا بھی ایمان نہیں ہے، اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم