🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : ذهاب القرآن والعلم
باب: قرآن اور علم (حدیث) کا دنیا سے اٹھ جانا قیامت کی نشانی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4051
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ , وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ , وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت چھا جائے گی، علم اٹھ جائے گا، اور «هرج» زیادہ ہو گا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4051]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آگے (مستقبل میں) ایسا زمانہ آئے گا جس میں جہالت پھیل جائے گی، علم اٹھ جائے گا، اور «الْهَرْجُ» (ہرج) زیادہ ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! «الْهَرْجُ» کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل و غارت۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ الْحَسَنِ , حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ الْمُتَشَمِّسِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى , حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَهَرْجًا" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" , فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نَقْتُلُ الْآنَ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ كَذَا وَكَذَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ بِقَتْلِ الْمُشْرِكِينَ , وَلَكِنْ يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا , حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ , وَابْنَ عَمِّهِ , وَذَا قَرَابَتِهِ" , فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَعَنَا عُقُولُنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْزَعُ عُقُولُ أَكْثَرِ ذَلِكَ الزَّمَانِ , وَيَخْلُفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ لَا عُقُولَ لَهُمْ" , ثُمَّ قَالَ الْأَشْعَرِيُّ: وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّهَا مُدْرِكَتِي , وَإِيَّاكُمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجٌ , إِنْ أَدْرَكَتْنَا فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ كَمَا دَخَلْنَا فِيهَا.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا: قیامت سے پہلے «ہرج» ہو گا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! «ہرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، کچھ مسلمانوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کا قتل مراد نہیں بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور قرابت داروں کو بھی قتل کرے گا، تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس وقت ہم لوگ عقل و ہوش میں ہوں گے کہ نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی، اور ان کی جگہ ایسے کم تر لوگ لے لیں گے جن کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ زمانہ مجھے اور تم کو پا لے، اللہ کی قسم! اگر ایسا زمانہ مجھ پر اور تم پر آ گیا تو ہمارے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کی ہے، سوائے اس کے کہ ہم اس سے ویسے ہی نکلیں جیسے داخل ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3959]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ہرج واقع ہو گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل و غارت۔ کچھ مسلمانوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اب بھی تو ہم سال بھر میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کا قتل نہیں ہو گا بلکہ تم لوگ ایک دوسرے کو قتل کرو گے حتی کہ آدمی اپنے پڑوسی کو، اپنے چچا کو اور اپنے رشتہ دار کو قتل کر دے گا۔ بعض افراد نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس دور میں ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی اور بعد میں ایسے لوگ آ جائیں گے جو گرد و غبار کی طرح (بے حقیقت، بے قدر) ہوں گے، ان کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی۔ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی! مجھے تو لگتا ہے کہ وہ فتنہ مجھ پر اور تم لوگوں ہی پر آ جائے گا۔ اور قسم ہے اللہ کی! اگر یہ اس چیز کے بارے میں ہوا جس کے بارے میں ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی تھی تو میرے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا، سوائے اس کے کہ جس طرح ہم اس میں شامل ہوئے تھے، اسی طرح نکل جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8980، ومصباح الزجاجة: 1391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/391، 392، 406، 414) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1682)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں