🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب : نوع آخر
باب: صلاۃ (درود و رحمت) کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1294
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم جان چکے ہیں، پر مگر آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللہم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على إبراهيم» اے اللہ! درود و رحمت بھیج اپنے بندے اور رسول محمد پر جس طرح تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1294]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام پڑھنا تو ہم نے جان لیا ہے مگر آپ پر درود کیسے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ» اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر خصوصی رحمت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل فرمائی۔ اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکت نازل فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب 10 (4798)، الدعوات 32 (6358)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 25 (903)، (تحفة الأشراف: 4093)، مسند احمد 3/47 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1286
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ نُصَلِّ عَلَيْكَ , فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ:" قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ , فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , وَالسَّلَامُ كَمَا عَلِمْتُمْ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بیٹھک میں ہمارے پاس تشریف لائے، تو آپ سے بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر کیسے صلاۃ (درود) بھیجیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہماری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش انہوں نے آپ سے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح صلاۃ (درود) بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر صلاۃ (درود) بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے آل ابراہیم پر تمام عالم میں برکتیں نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے) اور سلام بھیجنا تو تم جانتے ہی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1286]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بیٹھک میں تشریف لائے۔ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ہم آپ پر کیسے درود پڑھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے حتیٰ کہ ہم نے تمنا کی کہ وہ آپ سے نہ پوچھتے۔ کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی آل پر خصوصی رحمت فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (ؑ) کی آل پر خصوصی رحمت فرمائی۔ اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کی آل پر برکات نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (ؑ) کی آل پر تمام جہانوں میں برکتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو ہی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور سلام اس طرح پڑھو جیسے تمہیں سکھایا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 17 (405)، سنن ابی داود/الصلاة 183 (980، 981)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الأحزاب (3220)، موطا امام مالک/السفر 22 (67)، مسند احمد 4/118، 119، 5/273، سنن الدارمی/ ال صلاة 85 (1382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1287
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ وَنُسَلِّمَ , أَمَّا السَّلَامُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ , فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ , قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ , اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے، رہا سلام تو اسے ہم جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ (درود) کس طرح بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد كما صليت على آل إبراهيم اللہم بارك على محمد كما باركت على آل إبراهيم» اے اللہ! محمد پر تو اسی طرح صلاۃ (درود) و رحمت بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، اے اللہ! محمد پر تو اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1287]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم آپ پر درود و سلام پڑھیں، سلام تو ہم جان چکے ہیں درود کیسے پڑھیں؟ آپ نے فرمایا: تم کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ... عَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر خصوصی رحمتیں فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر رحمتیں فرمائیں۔ اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9998) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1289
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ , قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَنَحْنُ نَقُولُ: وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ , وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِيهِ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ غَيْرَ هَذَا , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنے کو ہم جان چکے ہیں مگر آپ پر صلاۃ (درود) کس طرح بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! تو صلاۃ (درود) بھیج محمد اور آل محمد پر اسی طرح جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگ ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگ ہے۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: اور ہم «وعلينا معهم» اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی بھی کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ سند اس سے پہلے والی سے زیادہ قرین صواب ہے (یعنی عمرو کی جگہ حکم کا ہونا) اور ہم قاسم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن مرہ کا ذکر کیا ہو، «واللہ اعلم» ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1289]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام تو ہم جان چکے ہیں لیکن آپ پر درود کیسے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر خصوصی رحمت نازل فرما جیسے تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ (راوی) عبدالرحمن نے کہا: ہم یہ بھی کہتے تھے: اور ان کے ساتھ ساتھ ہم پر بھی (رحمتیں اور برکتیں نازل فرما)۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ سند پہلی سند کے مقابلے میں زیادہ درست ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ حضرت قاسم کے علاوہ کسی نے اس حدیث میں عمرو بن مرہ کا ذکر کیا ہو۔ واللہ أعلم۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگلی سند میں بھی حکم ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1290
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَ لِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ السَّلَامُ عَلَيْكَ , فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ (درود) کیسے بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وآل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! درود بھیج محمد اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1290]
حضرت ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: میں تجھے تحفہ نہ دوں؟ (اور وہ یہ ہے کہ) ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام پڑھنا تو ہم جان چکے ہیں لیکن آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کی آل پر خصوصی رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر رحمتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کی آل پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1288 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1291
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ , قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) کیسے بھیجا جائے، تو آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! صلاۃ (درود) بھیج محمد اور آل محمد پر ایسے ہی جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر، ایسے ہی جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1291]
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر درود کیسے پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کی آل پر خصوصی رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر رحمتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کی آل پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، حم1/162، (تحفة الأشراف: 5014) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1292
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم آپ پر صلاۃ (درود) کس طرح بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! صلاۃ (درود) بھیج محمد پر اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1292]
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ نے فرمایا: تم کہو: «اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کی آل پر خصوصی رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر رحمتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کی آل پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1291 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1295
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ , أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ فِي حَدِيثِ الْحَارِثِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ قَالَا جَمِيعًا , كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّتَيْنِ , وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ سَقَطَ عَلَيْهِ مِنْهُ شَطْرٌ.
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں (صحابہ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) کیسے بھیجیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللہم صل على محمد وأزواجه وذريته»، یہ صرف حارث کی روایت میں ہے «كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته‏» ۔ یہ دونوں کی روایت میں ہے «كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: قتیبہ نے اس حدیث کو مجھ سے دو بار بیان کیا، اور شاید کہ ان سے کچھ حصہ اس حدیث کا چھوٹ گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1295]
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )، آپ کی بیویوں اور آپ کی نسل پر رحمتیں نازل فرما۔حارث کی حدیث میں یہ لفظ بھی ہیں: «كَمَا صَلَّيْتَ... وَذُرِّيَّتِهِ» جس طرح تو نے ابراہیم (ؑ) کی آل پر رحمتیں نازل فرمائیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )، آپ کی بیویوں اور آپ کی نسل پر برکتیں نازل فرما۔ یہاں سے پھر دونوں راوی متفق ہیں: «كَمَا بَارَكْتَ... حَمِيدٌ مَجِيدٌ» جس طرح تو نے ابراہیم (ؑ) کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ امام ابو عبد الرحمٰن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث حضرت قتیبہ نے دو دفعہ بیان فرمائی۔ معلوم یوں ہوتا ہے کہ ان سے ایک سطر رہ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3369)، الدعوات 33 (6360)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (407)، سنن ابی داود/الصلاة 183 (979)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 25 (905)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 22 (66)، مسند احمد 5/424، (تحفة الأشراف: 11896) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں