سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب : السرعة بالجنازة
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1912
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَدَّمْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَتْ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جنازے کو جلدی لے چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے، اور اگر بد ہے تو شر کو اپنی گردنوں سے (جلد) اتار پھینکو گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1912]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میت کو جلدی لے جاؤ کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف جلدی لے جا رہے ہو اور اگر وہ نیک نہیں تو تم ایک شر کو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، (تحفة الأشراف: 12187)، مسند احمد 2/240، 280 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1911
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف (جلد) لے جاؤ گے، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم (جلد) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1911]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور وہ اس روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، کہ آپ نے فرمایا: ”جنازہ جلدی لے کر چلو۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر وہ نیک نہیں تو تم ایک شر کو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 51 (1315)، صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، سنن ابی داود/الجنائز 50 (3181)، سنن الترمذی/الجنائز 30 (1015)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1477)، (تحفة الأشراف: 13124)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (56)، (موقوفاً علی أبي ھریرة)، مسند احمد 2/240 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه