سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب : التشديد في الجلوس على القبور
باب: قبروں پر بیٹھنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2047
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقْعُدُوا عَلَى الْقُبُورِ".
عمرو بن حزم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ قبروں پر نہ بیٹھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2047]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر مت بیٹھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10727) (صحیح) (اس کے راوی ’’نصر سلمی‘‘ مجہول ہیں، لیکن پچھلی روایت نیز ابو مرثد رضی الله عنہ کی روایت صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَخِّرِيهِ عَنِّي"، فَنَزَعْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو“، تو میں نے اسے اتار لیا، اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 762]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک تصاویر والا کپڑا تھا۔ میں نے اسے گھر میں ایک طاق کے سامنے (بطور پردہ) لٹکا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طاق کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے، اس لیے آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! اسے میرے سامنے سے ہٹا دو۔“ میں نے اتار کر اس کے تکیے بنا لیے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، (تحفة الأشراف: 17494)، مسند احمد 6/172، سنن الدارمی/الاستئذان 33 (2704)، ویأتی عند المؤلف في الزینة فی المجتبی 111 (برقم: 5356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2046
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ حَتَّى تَحْرُقَ ثِيَابَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا انگارے پر بیٹھنا یہاں تک کہ اس کے کپڑے جل جائیں اس کے لیے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2046]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کا انگارے پر بیٹھنا جس سے اس کے کپڑے جل جائیں، قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 33 (971)، (تحفةا الأشراف: 12662)، قد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 77 (3228)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 45 (1566)، مسند احمد 2/311، 389، 444، 528 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم