سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : ذكر الاختلاف على سليمان بن مهران في حديث عائشة في تأخير السحور واختلاف ألفاظهم
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2162
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ:" رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ، أَحَدُهُمَا يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، وَالْآخَرُ يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، مسروق نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے، (لیکن) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں؟ مسروق نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2162]
حضرت ابو عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت مسروق رحمہ اللہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے کوئی بھی نیکی میں کوتاہی نہیں کرتا مگر ان میں سے ایک افطاری اور نماز مغرب میں تاخیر کرتے ہیں اور دوسرے صاحب افطاری اور نماز مغرب میں جلدی کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان میں سے کون نماز مغرب اور افطاری میں جلدی کرتے ہیں؟ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2160 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2163
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا لَهَا" يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، فَقَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ہم نے ان سے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ (دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2163]
حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے کہا: اے ام المومنین! اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطاری اور نمازِ مغرب جلدی ادا کرتے ہیں اور دوسرے افطاری اور نمازِ مغرب میں تاخیر کرتے ہیں۔ فرمانے لگیں: ان میں سے کون افطاری اور نمازِ مغرب میں جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل یہی تھا۔ دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2160 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم