سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : وجوب الزكاة
باب: زکاۃ کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا، إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَحْيِ اللَّهِ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" بِالْإِسْلَامِ"، قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ“، میں نے پوچھا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو گیا، اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے (اسلام لاتے وقت) کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے یہاں آپ کے پاس آنے سے پہلے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد (یعنی دس) سے بھی زیادہ دفعہ قسم کھائی تھی کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ (لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے تو حاضر ہو گیا ہوں)۔ میں بے سمجھ آدمی ہوں، مجھے کچھ معلوم نہیں مگر جو اللہ عز وجل اور اس کا رسول مجھے سکھائیں گے۔ میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے واسطے سے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا دے کر ہماری طرف بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام دے کر۔“ میں نے عرض کیا: اسلام کی امتیازی باتیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو کہے: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے لیے مطیع کر دیا ہے اور میں ہر قسم کے شرک سے لا تعلق ہو گیا ہوں۔ اور تو نماز (باجماعت) پڑھے اور زکاۃ کی ادائیگی کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11388)، مسند احمد 5/4، 5، ویأتي عند المؤلف، بأرقام: 2567، 2569، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 2 (2536) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2569
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَلَّا، آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" بِالْإِسْلَامِ" , قَالَ: قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ مُشْرِكٍ بَعْدَمَا أَسْلَمَ عَمَلًا، أَوْ يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ".
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایک بے عقل اور ناسمجھ انسان ہوں (اب بھی کچھ نہیں سمجھتا) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: اللہ نے آپ کو ہمارے پاس کیا چیزیں دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام دے کر“، میں نے عرض کیا: ”اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟“ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ہے کہ تم کہو: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک کر لیا ہے، اور تم نماز قائم کرو، زکاۃ دو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۱؎۔ ہر ایک دوسرے کا بھائی و مددگار ہے، اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل اس کے بعد کہ وہ اسلام لے آیا ہو قبول نہیں کرتا، یا وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2569]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے قبل اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ قسمیں کھائی تھیں کہ نہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین قبول کروں گا، اور میں دین کی کوئی سمجھ نہیں رکھتا مگر جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سکھائیں۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا چیز دے کر ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام دے کر۔“ میں نے عرض کیا: اسلام کی علامات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو کہے: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے تابع کر دیا ہے اور (اس کے علاوہ ہر چیز سے) علیحدہ ہو جائے اور نماز قائم کرے اور زکاۃ ادا کرے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے مددگار بھائی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی مشرک سے اس کے اسلام لانے کے بعد بھی کوئی عمل قبول نہیں فرماتا حتیٰ کہ وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آملے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2438 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر مسلمان کی جان، مال عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دار الشرک سے دار السلام کی طرف ہجرت واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن