🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب : مسألة القوي المكتسب
باب: کما سکنے والے طاقتور شخص کے مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2599
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ حَدَّثَاهُ، أَنَّهُمَا أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَلَّبَ فِيهِمَا الْبَصَرَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: بَصَرَهُ فَرَآهُمَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتُمَا، وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ".
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے ان سے بیان کیا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دونوں آپ سے صدقہ مانگ رہے تھے، تو آپ نے نگاہ الٹ پلٹ کر انہیں دیکھا (محمد کی روایت میں (نگاہ کے بجائے) اپنی نگاہ ہے تو دونوں کو ہٹا کٹا پایا، تو آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو لے لو، (لیکن یہ جان لو) کہ مالدار اور کما سکنے والے شخص کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2599]
حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زکاۃ و صدقات مانگنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غور سے دیکھا تو انہیں موٹا تازہ پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجبور کرو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن مال دار، کما سکنے والے طاقت ور شخص کا زکاۃ میں کوئی حصہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة23 (1633)، (تحفة الأشراف: 5635)، مسند احمد (4/224، و5/362) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2580
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ. ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فِيهَا فَقَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ، رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ بَيْنَ قَوْمٍ فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ".
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: مانگنا صرف تین لوگوں کے لیے جائز ہے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے قوم کے کسی شخص کے قرض کی ضمانت لے لی ہو (پھر وہ ادا نہ کر سکے)، تو وہ دوسرے سے مانگے یہاں تک کہ اسے ادا کر دے، پھر رک جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2580]
حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا: میں نے کوئی تاوان اپنے ذمے لے لیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے اس کی (ادائیگی میں تعاون کی) بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا: مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے کسی قوم میں (صلح کروانے کے لیے) کوئی تاوان اپنے ذمے لے لیا۔ وہ اس سلسلے میں لوگوں سے مدد مانگ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ تاوان اتار دے اور پھر مانگنے سے رک جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة36 (1044)، سنن ابی داود/الزکاة 26 (1640)، (تحفة الأشراف: 11068)، مسند احمد (3/477، و5/60)، سنن الدارمی/الزکاة37 (1685)، ویأتی عند المؤلف برقم2592 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2581
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ، حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ , قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا قَبِيصَةُ! إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، حَتَّى يَشْهَدَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَى هَذَا مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ، يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا".
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ادائیگی کے لیے روپے) مانگنے آیا، تو آپ نے فرمایا: اے قبیصہ رکے رہو۔ (کہیں سے) صدقہ آ لینے دو، تو ہم تمہیں اس میں سے دلوا دیں گے، وہ کہتے ہیں ـ: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قبیصہ! صدقہ تین طرح کے لوگوں کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں ہے: وہ شخص جو کسی کا بوجھ خود اٹھا لے ۱؎ تو اس کے لیے مانگنا درست ہے، یہاں تک کہ اس سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے، اور (دوسرا) وہ شخص جو کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جائے، اور وہ اس کا مال تباہ کر دے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے، پھر رک جائے، (تیسرا) وہ شخص جو فاقہ کا شکار ہو گیا ہو یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد گواہی دیں کہ ہاں واقعی فلاں شخص فاقہ کا مارا ہوا ہے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے گزارہ کا انتظام ہو جائے، ان کے علاوہ مانگنے کی جو بھی صورت ہے حرام ہے، اے قبیصہ! اور جو کوئی مانگ کر کھاتا ہے حرام کھاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2581]
حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک مالی بوجھ اپنے ذمے لے لیا، پھر اس کی (ادائیگی میں تعاون کی) بابت سوال کرنے کے لیے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیصہ! ہمارے پاس ٹھہرو، کوئی صدقہ آگیا تو تمہیں دینے کا حکم دیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قبیصہ! زکوٰۃ مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: ایک تو وہ شخص جس نے (جھگڑا نمٹانے کے لیے) کوئی (مالی) بوجھ اپنے ذمے لے لیا، تو اس کے لیے زکوٰۃ و صدقات لینا جائز ہے، حتیٰ کہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے۔ اور دوسرا وہ شخص جس پر کوئی ناگہانی آفت آگئی جس نے اس کا مال ختم کر دیا۔ اس کے لیے بھی مانگنا جائز ہے حتیٰ کہ اس کا گزارا ہونے لگے، پھر وہ مانگنے سے رک جائے۔ اور تیسرا وہ شخص جسے فاقوں کی نوبت آگئی حتیٰ کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار (معتبر) آدمی گواہی دیں کہ واقعتاً فلاں شخص فاقہ زدہ ہے، تو اس کے لیے بھی مانگنا جائز ہے حتیٰ کہ وہ زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے۔ اے قبیصہ! ان حالات کے علاوہ مانگنا حرام ہے اور مانگنے والا حرام کھاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی کا قرض وغیرہ اپنے ذمہ لے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ أَصَابَتْ مَالَهُ جَائِحَةٌ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ حَمَالَتَهُمْ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ، وَرَجُلٍ يَحْلِفُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ ذَوِي الْحِجَا بِاللَّهِ لَقَدْ حَلَّتِ الْمَسْأَلَةُ لِفُلَانٍ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ مَعِيشَةٍ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ".
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین شخصوں کے علاوہ کسی اور کے لیے سوال کرنا درست نہیں ہے: ایک وہ شخص جس کا مال کسی آفت کا شکار ہو گیا ہو تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، پھر رک جائے، (دوسرا) وہ شخص جو کسی کا قرض اپنے ذمہ لے لے تو وہ قرض لوٹانے تک مانگ سکتا ہے، پھر (جب قرض ادا ہو جائے) تو مانگنے سے رک جائے۔ اور (تیسرا) وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھدار افراد اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس کی محتاجی و تنگ دستی کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کے لیے مانگنا جائز ہے تو وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ نہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، ان (تین صورتوں) کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2592]
حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: ایک وہ شخص جس کے مال پر کوئی ناگہانی آفت آگئی تو وہ مانگ سکتا ہے حتیٰ کہ گزارا ہو سکے، پھر وہ مانگنے سے باز آجائے۔ اور ایک وہ شخص جس نے کوئی تاوان اپنے ذمے لے لیا، وہ مانگ سکتا ہے حتیٰ کہ وہ تاوان ادا کرے، پھر وہ مانگنے سے باز آجائے۔ اور ایک وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھ دار (معزز) اشخاص اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھائیں کہ فلاں شخص (کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ اس) کے لیے مانگنا حلال ہوگیا ہے۔ تو وہ مانگ سکتا ہے حتیٰ کہ مناسب گزارا کر سکے، پھر وہ مانگنے سے باز آجائے۔ ان تین صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2580 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2598
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2598]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ وصدقات کسی مال دار شخص یا کسی طاقت ور تندرست شخص کے لیے جائز نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزکاة25 (1839)، (تحفة الأشراف: 12910)، مسند احمد (2/377، 389) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں