🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. باب : استعمال آل النبي صلى الله عليه وسلم على الصدقة
باب: آل رسول صلی الله علیہ وسلم کو صدقہ پر عامل بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2610
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَالْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولَا لَهُ اسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ، فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَالَ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَعْمِلُ مِنْكُمْ أَحَدًا عَلَى الصَّدَقَةِ، قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَنَا:" إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالمطلب بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، اور آپ سے کہو کہ اللہ کے رسول! آپ ہمیں صدقہ پر عامل بنا دیں، ہم اسی حال میں تھے کہ علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں میں سے کسی کو بھی صدقہ پر عامل مقرر نہیں فرمائیں گے۔ عبدالمطلب کہتے ہیں: (ان کے ایسا کہنے کے باوجود بھی) میں اور فضل دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو آپ نے ہم سے فرمایا: یہ صدقہ جو ہے یہ لوگوں کا میل ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل کے لیے جائز نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2610]
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میرے والد ربیعہ بن حارث نے مجھے اور حضرت فضل بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے عرض کرو کہ ہمیں بھی صدقات اکٹھے کرنے کی خدمت پر مقرر فرمائیں۔ ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی کو صدقات پر مقرر نہیں فرمائیں گے۔ میں اور فضل بن عباس پھر بھی چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ زکاۃ و صدقات لوگوں کا میل کچیل ہیں، اس لیے یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة51 (1072)، سنن ابی داود/الخراج والإمارة20 (2985)، (تحفة الأشراف: 9737)، مسند احمد 4/166 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2613
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَرَادَ أَبُو رَافِعٍ أَنْ يَتْبَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر عامل مقرر فرمایا، تو ابورافع نے بھی اس کے ساتھ جانا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے، لوگوں کا غلام بھی انہیں میں سے شمار ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2613]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک شخص کو صدقات جمع کرنے پر مقرر فرمایا۔ ابو رافع (یعنی میں) نے بھی اس کے ساتھ جانے کی خواہش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقات ہمارے لیے حلال نہیں اور کسی خاندان کا آزاد کردہ غلام بھی ان میں شامل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة29 (1650)، سنن الترمذی/الزکاة25 (657)، (تحفة الأشراف: 2018)، مسند احمد (6/8، 10، 390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابورافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2614
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ، فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ بَسَطَ يَدَهُ".
بہز بن حکیم کے دادا (معاویہ بن حیدہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا یہ ہدیہ ہے تو آپ (کھانے کے لیے) اپنا ہاتھ بڑھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2614]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز لائی جاتی تو آپ اس کے بارے میں پوچھتے کہ یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا: صدقہ ہے، تو آپ نہیں کھاتے تھے اور اگر کہا جاتا ہے: تحفہ ہے، تو آپ تناول فرما لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة25 (656)، (تحفة الأشراف: 11386)، مسند احمد (5/5) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں