سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : فضل الحج المبرور
باب: مقبول حج کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2623
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارِ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ , عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَجَّةُ الْمَبْرُورَةُ لَيْسَ لَهَا جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ، وَالْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مبرور و مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں اور ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2623]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں، اور ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الحج 79 (1349)، (تحفة الأشراف: 12561)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمرة1 (1773)، سنن الترمذی/الحج 90 (933)، سنن ابن ماجہ/الحج 3 (2888)، ما/الحج 21 (65)، مسند احمد 2/246، 461، 462، سنن الدارمی/المناسک 7 (1836) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2624
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُور، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ , عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحَجَّةُ الْمَبْرُورَةُ لَيْسَ لَهَا ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةُ، مِثْلَهُ سَوَاءً، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور (مقبول) کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے“، اس سے آگے پہلے کی حدیث کے مثل ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اس میں «كفارة لما بينهما» کے بجائے «تكفر ما بينهما» کا لفظ آیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2624]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور کا ثواب صرف جنت ہے۔“ باقی روایت تقریباً سابقہ روایت ہی کی طرح ہے، مگر اس روایت میں فرق صرف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2623 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2630
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے ۱؎، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2630]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے تک (کے درمیانی گناہوں) کے لیے کفارہ بن جاتا ہے، اور حج مبرور کی تو جنت کے سوا کوئی جزا ہی نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 1 (1773)، صحیح مسلم/الحج 79 (1349)، سنن ابن ماجہ/الحج 3 (2888)، (تحفة الأشراف: 12573)، موطا امام مالک/الحج 21 (65) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه