سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. باب : الاشتراط في الحج
باب: حج میں شرط لگا نے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2766
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةُ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتِ الْحَجَّ،" فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ، فَفَعَلَتْ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کر لیں ۱؎ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2766]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ضباعہ رضی اللہ عنہا نے حج کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ (احرام کے وقت) شرط لگا لیں“ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسے ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج15 (1208)، (تحفة الأشراف: 5595) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تلبیہ پکارے وقت اس بات کی شرط کر لیں کہ اگر میں کسی وجہ سے مکہ تک نہیں پہنچ سکی تو جہاں تک پہنچ سکوں گی وہیں احرام کھول ڈالوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2769
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَاكِيَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُجِّي وَاشْتَرِطِي، إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي" , قَالَ إِسْحَاق: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: كِلَاهُمَا عَنْ عَائِشَةَ , هِشَامٌ وَالزُّهْرِيُّ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ مَعْمَرٍ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں؟، آپ نے فرمایا: ”حج کرو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی“۔ اسحاق کہتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) عبدالرزاق سے کہا: ہشام اور زہری دونوں عائشہ ہی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے کہا: ہاں (ایسا ہی ہے)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو معمر کے سوا کسی اور نے بھی زہری سے مسنداً روایت کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2769]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو وہ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم حج کو جاؤ لیکن شرط لگا لو کہ «مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”میں وہاں حلال ہو جاؤں گی جہاں تو مجھے روک لے گا۔““ اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) عبدالرزاق رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا ہشام اور زہری دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام لیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ یہ روایت معمر کے علاوہ کسی نے زہری سے متصل مرفوع بیان کی ہو۔ (مگر اس سے معمر کی روایت کمزور نہیں بنتی کیونکہ معمر بذات خود ثقہ راوی ہیں۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج15 (1207)، (تحفة الأشراف: 16644، 17245)، صحیح البخاری/النکاح15 (5089)، مسند احمد (6/164، 202) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم