🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : خطبة الرجل إذا ترك الخاطب أو أذن له
باب: شادی کے لیے پہلے پیغام دینے والے کے دست بردار ہو جانے یا اجازت دینے پر دوسرا شخص پیغام دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3246
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنِ الْحَارِثِ بن عبد الرحمن , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّهُمَا سَأَلَا فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، عَنْ أَمْرِهَا؟ فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، فَكَانَ يَرْزُقُنِي طَعَامًا فِيهِ شَيْءٌ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ لِي النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لَأَطْلُبَنَّهَا وَلَا أَقْبَلُ هَذَا فَقَالَ الْوَكِيلُ: لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ , قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ، فَاعْتَدِّي عِنْدَ فُلَانَةَ، قَالَتْ: وَكَانَ يَأْتِيهَا أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ أَعْمَى، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ آذَنْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَنْ خَطَبَكِ؟" فَقُلْتُ: مُعَاوِيَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مُعَاوِيَةُ، فَإِنَّهُ غُلَامٌ مِنْ غِلْمَانِ قُرَيْشٍ لَا شَيْءَ لَهُ وَأَمَّا الْآخَرُ، فَإِنَّهُ صَاحِبُ شَرٍّ لَا خَيْرَ فِيهِ، وَلَكِنْ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ"، قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، فَقَالَ لَهَا ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَنَكَحَتْهُ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے ان کے معاملہ کے متعلق پوچھا (کہ کیسے کیا ہوا؟) تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں اور کھانے کے لیے مجھے جو خوراک دینے لگے اس میں کچھ خرابی تھی (اچھا نہ تھا) تو میں نے کہا: اگر نفقہ اور سکنی میرا حق ہے تو اسے لے کر رہوں گی لیکن میں یہ (ردی سدی گھٹیا کھانے کی چیز) نہ لوں گی، (میرے شوہر کے) وکیل نے کہا: نفقہ و سکنی کا تمہارا حق نہیں بنتا۔ (یہ سن کر) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اس (بات چیت) کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: (وہ سچ کہتا ہے) تیرے لیے نفقہ و سکنی (کا حق) نہیں ہے ۱؎، تم فلاں عورت کے پاس جا کر اپنی عدت پوری کر لو ۲؎ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ان کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آتے جاتے رہتے تھے۔ (پھر کچھ سوچ کر کہ وہاں رہنے سے بےپردگی اور شرمندگی نہ ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں رہ کر اپنی عدت پوری کر لو کیونکہ وہ نابینا ہیں ۳؎، پھر جب (عدت پوری ہو جائے اور) تو دوسروں کے لیے حلال ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو، چنانچہ جب میں حلال ہو گئی (اور کسی بھی شخص سے شادی کرنے کے قابل ہو گئی) تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے شادی کا پیغام دیا ہے؟ میں نے کہا: معاویہ نے، اور ایک دوسرے قریشی شخص نے ۴؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا معاویہ تو وہ قریشی لڑکوں میں سے ایک لڑکا ہے، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، رہا دوسرا شخص تو وہ صاحب شر اور لاخیرا ہے (اس سے کسی بھلائی کی توقع نہیں ہے) ۵؎، ایسا کرو تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو فاطمہ کہتی ہیں: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تو لیکن وہ مجھے جچے نہیں) میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن جب آپ نے مجھے اسامہ بن زید سے تین بار شادی کر لینے کے لیے کہا تو میں نے (آپ کی بات رکھ لی اور) ان سے شادی کر لی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3246]
ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے روایت ہے کہ ان دونوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے ان کے معاملے کے متعلق پوچھا تو حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اور مجھے کھانے پینے کے لیے ناکافی خرچہ بھیجا۔ میں نے کہا: اگر رہائش اور کھانے پینے کا خرچہ میرا حق بنتا ہے تو اللہ کی قسم! میں پورا پورا خرچہ طلب کروں گی، یہ معمولی سا غلہ نہیں لوں گی۔ (میرے خاوند کے) وکیل نے کہا: تیرے لیے (قانونی طور پر) رہائش یا نفقہ (خرچہ) نہیں ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے یہ بات ذکر کی۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے (دوران عدت میں) رہائش اور خرچہ نہیں ہے۔ تو فلاں عورت (ام شریک) کے ہاں عدت گزار لے۔ جبکہ اس عورت کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اکثر آتے جاتے رہتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: تو ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزار۔ وہ نابینا شخص ہے۔ پھر جب تیری عدت پوری ہو جائے تو مجھے بتلانا۔ جب میری عدت ختم ہوگئی تو میں نے آپ کو بتلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے شادی کا پیغام کس کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: ایک تو معاویہ نے اور ایک قریشی شخص نے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاویہ تو قریش کے نوجوانوں میں سے ایک نوجوان ہے۔ اس کے پاس کوئی مال وغیرہ نہیں۔ اور دوسرا شخص (ابو جہم) صاحب شر (بیویوں کی بہت زیادہ پیٹنے والا) ہے اس میں بھلائی نہیں ہے۔ لیکن تو اسامہ بن زید سے نکاح کر لے۔ مجھے یہ بات اچھی نہ لگی لیکن آپ نے تین دفعہ یہی کہا تو میں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن ابی داود/الطلاق 39 (2284، 2285، 2286، 2287، 2289)، (تحفة الأشراف: 18036، 18038)، موطا امام مالک/الطلاق 23 (67)، مسند احمد (6/412، 413، 416)، ویأتي عند المؤلف بأرقام 3434، 3576 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: نفقہ وسکنی (اخراجات اور رہائش) کا حق ان کے لیے ہے جن سے شوہر کو رجوع کا حق و اختیار رہتا ہے، بلکہ شوہر کے گھر میں اس کی رہائش اسی لیے رکھی جاتی ہے تاکہ اس کی مجبوری و بےقراری دیکھ کر اسے رحم آئے، اور رجوع کرے اور دونوں اعتدال و توازن اور اخلاص و محبت کی زندگی گزارنے لگیں۔ ۲؎: فلانہ سے مراد ام شریک رضی الله عنہا ہیں وہ ایک مہمان نواز خاتون تھیں۔ ۳؎: ان کے گھر میں رہتے وقت اگر دوپٹہ سر سے کھسک جائے یا سونے میں جسم کا کوئی حصہ کھل جائے تو رسوائی اور شرمندگی نہ ہو گی۔ ۴؎: اس سے مراد ابوالجہم رضی الله عنہ ہیں۔ ۵؎: یعنی عورتوں کے حقوق کی بابت وہ لاخیرا ہے، ایک روایت میں ان کے متعلق تو «ضرّاب للنّسائ» (عورتوں کی بڑی پٹائی کرنے والا) اور «لا يَضَعُ عصاه عن عاتقه» (اپنے کندھے سے لاٹھی نہ اتارنے والا) جیسے الفاظ وارد ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی ضرورت کے تحت اس طرح کے اوصاف بیان کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3224
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ طَلَّقَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ فِي إِمَارَةِ مَرْوَانَ ابْنَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ قَيْسٍ الْبَتَّةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا خَالَتُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ تَأْمُرُهَا بِالِانْتِقَالِ مِنْ بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَسَمِعَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنَةِ سَعِيدٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى مَسْكَنِهَا وَسَأَلَهَا مَا حَمَلَهَا عَلَى الِانْتِقَالِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَعْتَدَّ فِي مَسْكَنِهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؟ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُخْبِرُهُ أَنَّ خَالَتَهَا أَمَرَتْهَا بِذَلِكَ، فَزَعَمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، فَلَمَّا أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى الْيَمَنِ، خَرَجَ مَعَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِتَطْلِيقَةٍ هِيَ بَقِيَّةُ طَلَاقِهَا، وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَتِهَا، فَأَرْسَلَتْ زَعَمَتْ إِلَى الْحَارِثِ، وَعَيَّاشٍ تَسْأَلُهُمَا الَّذِي أَمَرَ لَهَا بِهِ زَوْجُهَا، فَقَالَا: وَاللَّهِ مَا لَهَا عِنْدَنَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا، وَمَا لَهَا أَنْ تَكُونَ فِي مَسْكَنِنَا إِلَّا بِإِذْنِنَا، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَصَدَّقَهُمَا، قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَأَيْنَ أَنْتَقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" انْتَقِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، الَّذِي سَمَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ"، قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَاعْتَدَدْتُ عِنْدَهُ، وَكَانَ رَجُلًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَكُنْتُ أَضَعُ ثِيَابِي عِنْدَهُ حَتَّى أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا مَرْوَانُ، وَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَحَدٍ قَبْلَكِ وَسَآخُذُ بِالْقَضِيَّةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا" , مُخْتَصَرٌ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ مروان کے دور حکومت میں ایک نوجوان شخص عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی (جن کی ماں بنت قیس ہیں) کو طلاق بتہ دے دی ۱؎، تو اس کی خالہ فاطمہ بنت قیس نے اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم عبداللہ بن عمرو کے گھر سے منتقل ہو جاؤ، یہ بات مروان نے سنی (کہ سعید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو کے گھر سے چلی گئی ہے)۔ تو اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم اپنے اس گھر کو واپس چلی جاؤ (جہاں سے نکل کر آئی ہو) اور اس سے وجہ بھی پوچھی کہ تم اپنے گھر میں عدت کے ایام پورا کئے بغیر وہاں سے نکل کیسے آئی؟ تو اس نے انہیں (یعنی مروان کو) کہلا بھیجا کہ میں اپنی خالہ کے کہنے سے نکل آئی تھی۔ تو (اس کی خالہ) فاطمہ بنت قیس نے (اپنا پیش آمدہ واقعہ) بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص کے نکاح میں تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا، تو وہ بھی ان کے ساتھ گئے اور (وہاں سے) انہوں نے ان کو (تین طلاقوں میں سے) باقی بچی ہوئی طلاق دے کر کہلا بھیجا کہ حارث بن ہشام اور عیاش بن ربیعہ سے اپنا نفقہ لے لیں۔ کہتی ہیں: تو انہوں نے حارث اور عیاش سے پچھوا بھیجا کہ ان کے لیے ان کے شوہر نے ان دونوں کو کیا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے کہا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے پاس کوئی نفقہ (خرچ) نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے گھر میں ہماری اجازت کے بغیر ان کا رہنا درست ہے۔ ہاں اگر وہ حاملہ ہوں (تو انہیں وضع حمل تک نفقہ و سکنی ملے گا) وہ (یعنی فاطمہ بنت قیس) کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان سب باتوں کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں سچ کہتے ہیں، فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! پھر میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ جو ایک نابینا شخص ہیں اور جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن پاک) میں کیا ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے ان کے یہاں جا کر عدت پوری کی۔ وہ ایسے آدمی تھے جن کی آنکھیں چلی گئی تھیں، میں ان کے یہاں اپنے کپڑے اتار دیتی تھی، پھر (وہ وقت آیا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کرا دی ۲؎، ان کی اس بات کو مروان نے قبول نہیں کیا اور کہا: میں نے تم سے پہلے ایسی بات کسی سے نہیں سنی ہے۔ میں تو وہی فیصلہ نافذ رکھوں گا جس پر لوگوں کو عمل کرتا ہوا پایا ہے۔ (یہ حدیث) مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3224]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے مروان کے دور حکومت میں، جب کہ وہ نوجوان تھے، حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بیٹی، جس کی والدہ بنت قیس تھیں، کو بتہ طلاق دے دی۔ اس لڑکی کی خالہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اسے پیغام بھیجا کہ وہ عبداللہ بن عمرو (خاوند) کے گھر سے منتقل ہو جائے۔ مروان نے یہ سنا تو سعید کی بیٹی کو پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ وہ اپنے خاوند کے گھر واپس جائے اور اس سے پوچھا کہ وہ اپنے اصل گھر میں عدت مکمل کرنے سے پہلے کیوں منتقل ہوئی؟ تو اس نے واپسی پیغام بھیجا اور بتایا کہ میری خالہ (صحابیہ) نے مجھے حکم دیا تھا۔ (مروان نے انہیں پیغام بھیجا تو) حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر فرمایا تو میرا خاوند بھی ان کے ساتھ گیا اور وہاں سے مجھے آخری طلاق جو (تین طلاقوں میں سے) باقی تھی، بھیج دی اور میرا خرچ دینے کے لیے حضرت حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما کو کہہ دیا۔ میں نے حارث اور عیاش کو پیغام بھیجا کہ مجھے میرا خرچ بھیجیں جس کا میرے خاوند نے حکم دیا ہے۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! تیرا ہمارے ذمے کوئی خرچ نہیں مگر یہ کہ تو حاملہ ہو، اور تو ہماری اجازت کے بغیر ہماری رہائش میں بھی نہیں رہ سکتی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے پورا معاملہ ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کے موقف) کی تصدیق فرمائی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو میں کہاں رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو عبداللہ بن ام مکتوم نابینا کے گھر منتقل ہو جا، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب [سورة عبس: 1] میں تذکرہ فرمایا ہے۔ میں نے ان کے ہاں عدت گزاری، ان کی نظر ختم ہو چکی تھی، میں وہاں (بلا کھٹکے) اپنے کپڑے اتار سکتی تھی، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نکاح حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے فرما دیا۔ مروان نے ان کی اس بات کو تسلیم نہ کیا اور کہا: میں نے یہ بات تجھ سے پہلے کسی سے نہیں سنی، میں تو اسی طریق پر عمل کروں گا جس پر میں نے پہلے لوگوں کو پایا ہے۔ یہ روایت (اس جگہ) مختصر (بیان ہوئی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن ابی داود/الطلاق 39 (2290)، (تحفة الأشراف: 18031)، مسند احمد (6/414- 415، سنن الدارمی/النکاح ویأتي عند المؤلف برقم: 3582 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: طلاق بتہ ایسی طلاق ہے جس میں عورت کا شوہر سے کوئی علاقہ و تعلق باقی نہ رہ جائے۔ ۲؎: حدیث کا مقصود یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس کا نکاح اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے کر دیا، باوجودیکہ وہ غلام زادے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3247
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلُهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبَا جَهْمٍ، خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَلَكِنْ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ (شہر سے باہر سفر پر تھے) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا (یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے)۔ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں (ان کے گھر نہیں بلکہ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، تم وہاں اپنے کپڑے بھی اتار سکو گی، پھر جب تم (عدت پوری کر کے) حلال ہو جاؤ تو مجھے خبر دو، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو آپ کو اطلاع دی کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم دونوں نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ابوجہم تو اپنے کندھے سے اپنی لاٹھی اتار کر نہیں رکھتے ۱؎ اور معاویہ تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن آپ نے دوبارہ پھر کہا کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اور اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں ہمیں بڑی برکت دی اور میں ان کے ذریعہ قابل رشک بن گئی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3247]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (میرے خاوند) ابوعمر بن حفص رضی اللہ عنہ نے مجھے پکی طلاق دے دی جبکہ وہ میرے پاس موجود نہ تھے، تو ان کے وکیل نے میرے پاس کچھ جو وغیرہ بھیجے، میں نے وہ پسند نہ کیے۔ وکیل کہنے لگا: اللہ کی قسم! تیرے لیے تو ہمارے ذمے کچھ بنتا ہی نہیں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور ساری صورت حال گوش گزار کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے خرچہ (خاوند کے ذمے) نہیں بنتا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر عدت گزارنے کا مشورہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خود ہی) فرمانے لگے: اس عورت کے پاس میرے (مہمان) صحابہ آتے جاتے رہتے ہیں، لہٰذا تو ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لے کیونکہ وہ نابینا شخص ہے، تو وہاں اپنے (فالتو) کپڑے اتار سکتی ہے۔ پھر جب تیری عدت پوری ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب میری عدت پوری ہو گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اور جہم رضی اللہ عنہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوجہم تو ہر وقت کندھے پر لاٹھی اٹھائے رہتا ہے، کبھی نہیں اتارتا اور رہا معاویہ! تو فقیر ہے، اس کے پاس زیادہ مال نہیں، لیکن تو اسامہ سے نکاح کرلے۔ میں نے ناپسند کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسامہ سے نکاح کرلے۔ چنانچہ میں نے ان سے نکاح کر لیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس نکاح میں بھلائی اور برکت ڈالی حتیٰ کہ مجھ پر رشک کیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3246 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عورتوں سے ہر وقت مار پیٹ کرتے رہتے ہیں یا اکثر حالت سفر میں رہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3432
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْمَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَنَا بِنْتُ آلِ خَالِدٍ، وَإِنَّ زَوْجِي فُلَانًا، أَرْسَلَ إِلَيَّ بِطَلَاقِي، وَإِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَهُ النَّفَقَةَ وَالسُّكْنَى فَأَبَوْا عَلَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَيْهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا النَّفَقَةُ، وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ، إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: میں آل خالد کی بیٹی ہوں اور میرے شوہر فلاں نے مجھے طلاق کہلا بھیجی ہے، میں نے ان کے گھر والوں سے نفقہ و سکنی (اخراجات اور رہائش) کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مجھے دینے سے انکار کیا، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے بھیجی ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نفقہ و سکنی اس عورت کو ملتا ہے جس کے شوہر کو اس سے رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3432]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میں آلِ خالد میں سے ایک عورت ہوں۔ میرے خاوند نے مجھے (آخری) طلاق بھیج دی ہے۔ میں نے خاوند کے گھر والوں سے اپنے لیے رہائش اور اخراجات طلب کیے تو انہوں نے انکار کر دیا ہے۔ انہوں (خاوند کے گھر والوں) نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں بھیج دی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخراجات و رہائش تو اس (مطلقہ) عورت کو ملتے ہیں جس کے خاوند کو اس سے رجوع کا حق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/الطلاق 5 (1180)، سنن ابی داود/الطلاق 40 (2291)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 10 (3036)، (تحفة الأشراف: 18025)، ویأتي بأرقام3577، 3578، 3579 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور تین طلاق کے بعد رجوع نہیں کر سکتا اس لیے عورت کو نفقہ و سکنیٰ بھی نہیں ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا، لَيْسَ لَهَا سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةٌ".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طلاق پائی ہوئی عورت کو نہ سکنی ملے گا اور نہ نفقہ۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3433]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کو تین طلاقیں ہو چکی ہوں اسے دورانِ عدت میں خرچہ و رہائش نہیں ملیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3434
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَ فَاطِمَةَ ثَلَاثًا، فَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ؟ فَقَالَ:" لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ، وَلَا سُكْنَى".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دیں، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ابوعمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو کیا اسے (عدت کے دوران) نفقہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ سکنی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3434]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے (میرے خاوند) ابو عمرو بن حفص مخزومی نے تین طلاقیں دے دیں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابو عمرو بن حفص نے اپنی بیوی فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تو کیا اسے دورانِ عدت اخراجات ملیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نہ اخراجات ملیں گے اور نہ رہائش۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3246 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3447
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي بِطَلَاقِي، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَمْ طَلَّقَكِ؟" فَقُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ:" لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ، ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ، فَآذِنِينِي"، مُخْتَصَرٌ.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق کہلا بھیجی تو میں اپنے کپڑے اپنے آپ پر لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (نفقہ و سکنی کا مطالبہ لے کر) پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟ میں نے کہا: تین، آپ نے فرمایا: پھر تو تمہیں نفقہ نہیں ملے گا تم اپنی عدت کے دن اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر میں پورے کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں، تم ان کے پاس رہ کر بھی اپنے کپڑے اتار سکتی ہو پھر جب تمہاری عدت کے دن پورے ہو جائیں تو مجھے خبر دو، یہ حدیث طویل ہے، یہاں مختصر بیان ہوئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3447]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے طلاق لکھ بھیجی تو میں نے اپنے کپڑے پہنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: وہ تجھے کتنی طلاقیں دے چکا ہے؟ میں نے کہا: تین۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تجھے خرچ وغیرہ نہیں ملے گا۔ تو اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا شخص ہے، تو اس کے ہاں کپڑے بھی اتار سکتی ہے۔ جب تیری عدت پوری ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1135)، سنن ابن ماجہ/الطلاق10 (2035)، (تحفة الأشراف: 18037)، مسند احمد (6/412411، 413، ویأتي برقم: 3581 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3575
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي، وَأَمَرَ وَكِيلَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ فَتَقَالَّتْهَا، فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَعْضِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، طَلَّقَهَا فُلَانٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ كُلْثُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ امْرَأَةٌ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا، فَانْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ أَعْمَى"، فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو الْجَهْمِ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا، فَقَالَ: أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ أَمْلَقُ مِنَ الْمَالِ"، فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ.
عبدالرحمٰن بن عاصم سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ بنی مخزوم کے ایک شخص کی بیوی تھیں، وہ شخص انہیں تین طلاقیں دے کر کسی جہاد میں چلا گیا اور اپنے وکیل سے کہہ گیا کہ اسے تھوڑا بہت نفقہ دیدے۔ (تو اس نے دیا) مگر اس نے اسے تھوڑا اور کم جانا (اور واپس کر دیا) پھر ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس پہنچی اور وہ ان کے پاس ہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہیں اور (ان کے شوہر) فلاں نے انہیں طلاق دے دی ہے اور ان کے پاس کچھ نفقہ بھیج دیا ہے جسے انہوں نے واپس کر دیا، اس کے وکیل کا خیال ہے کہ یہ تو اس کی طرف سے ایک طرح کا احسان ہے (ورنہ اس کا بھی حق نہیں بنتا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ صحیح کہتا ہے، تم ام کلثوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت گزارو، پھر آپ نے فرمایا: نہیں، تم عبداللہ بن ام مکتوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ، ام کلثوم کے گھر ملنے جلنے والے بہت آتے ہیں (ان کے باربار آنے جانے سے تمہیں تکلیف ہو گی) اور عبداللہ بن ام مکتوم نابینا آدمی ہیں، (وہاں تمہیں پریشان نہ ہونا پڑے گا) تو وہ عبداللہ ابن ام مکتوم کے یہاں چلی گئیں اور انہیں کے یہاں اپنی عدت کے دن پورے کئے۔ اس کے بعد ابوالجہم اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں شادی کا پیغام دیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان دونوں کے بارے میں کسی ایک سے شادی کرنے کا مشورہ چاہا، تو آپ نے فرمایا: رہے ابوالجہم تو مجھے ان کے تم پر لٹھ چلا دینے کا ڈر ہے اور رہے معاویہ تو وہ مفلس انسان ہیں۔ یہ سننے کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کر لی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3575]
حضرت عبدالرحمن بن عاصم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو کہ بنومخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، نے مجھے بتایا کہ میرے خاوند نے مجھے آخری طلاق دے دی، وہ کسی جنگ کو گئے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے وکیل کو حکم دیا کہ مجھے کچھ اخراجات وغیرہ ادا کرے، میں نے انہیں کم محسوس کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں ان کے پاس ہی تھی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہے، اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی ہے اور کچھ اخراجات بھی بھیجے ہیں لیکن اس نے (کم سمجھ کر) قبول نہیں کیے جب کہ خاوند کا خیال ہے کہ میں نے یہ بھی بطور احسان بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ درست کہتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ام کلثوم کے گھر چلی جا اور وہاں عدت گزار۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام کلثوم کے پاس آنے جانے والوں کی کثرت رہتی ہے، لہٰذا تو عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجا، وہ نابینا شخص ہے۔ میں ان کے گھر منتقل ہوگئی اور وہیں عدت گزاری، جب عدت ختم ہوئی تو ابو جہم اور حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کے پیغام بھیجے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوجہم کے بارے میں تو مجھے خطرہ ہے کہ اس کی لاٹھی ہر وقت حرکت میں رہے گی، باقی رہا معاویہ! تو وہ مالی لحاظ سے فقیر ہے۔ بعد میں میں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کرلیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18030)، مسند احمد (6/414) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد وقوله أم كلثوم منكر والمحفوظ أم شريك
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3576
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ," أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ فَاطِمَةُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى"، فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا، قَالَ عُرْوَةُ: أَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انہوں نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری تیسری طلاق دے دی۔ فاطمہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنے گھر سے اپنے نکل جانے کا مسئلہ پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مطلقہ کے گھر سے نکلنے کی بات کو صحیح تسلیم نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ کی اس بات کا انکار کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3576]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، انہوں نے مجھے تین میں سے آخری طلاق بھیج دی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خاوند کے گھر سے منتقل ہونے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ (جو نابینا تھے) کے گھر منتقل ہونے کے لیے فرمایا۔ مروان رحمہ اللہ نے (اپنے دور حکومت میں) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اس مسئلے میں تصدیق نہیں کی کہ ایسی مطلقہ خاوند کے گھر سے منتقل ہو سکتی ہے۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3246 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3578
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ بَصْرِيٌّ، عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ , وَمُغِيرَةُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وإسماعيل بن أبي خالد، وَذَكَرَ آخَرِينَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى، وَالنَّفَقَةِ، قَالَتْ:" فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ".
شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ان کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پوچھا؟ انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق بتہ (تین طلاق قطعی) دی تو میں ان سے نفقہ و سکنیٰ حاصل کرنے کا اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو آپ نے مجھے نفقہ و سکنیٰ پانے کا حقدار نہ ٹھہرایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اب ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزاروں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3578]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی بابت پوچھا تو انہوں نے بتایا: مجھے میرے خاوند نے آخری طلاق دے دی تھی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں اس کے خلاف رہائش و اخراجات (دورانِ عدت) کا دعویٰ کر دیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رہائش و اخراجات نہیں دلوائے اور مجھے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3579
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق الصَّاغَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارٌ هُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ:" طَلَّقَنِي زَوْجِي، فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَاعْتَدِّي فِيهِ، فَحَصَبَهُ الْأَسْوَدُ، وَقَالَ: وَيْلَكَ، لِمَ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالَ عُمَرُ: إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَّا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سورة الطلاق آية 1".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو میں نے (شوہر کے گھر سے) منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اجازت طلب کرنے کی غرض سے) آئی، آپ نے (اجازت عطا فرمائی) فرمایا: اپنے چچا زاد بھائی عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت کے دن گزارو۔ (یہ سن کر) اسود نے ان کی طرف (انہیں متوجہ کرنے کے لیے) کنکری پھینکی اور کہا: تمہارے لیے خرابی ہے ایسا فتویٰ کیوں دیتی ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم دو ایسے گواہ پیش کر دو جو اس بات کی گواہی دیں کہ جو تم کہہ رہی ہو اسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو ہم تمہاری بات قبول کر لیں گے۔ اور اگر دو گواہ نہیں پیش کر سکتیں تو ہم کسی عورت کے کہنے سے کلام پاک کی آیت: «لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں۔ (الطلاق: ۱) پر عمل کرنا ترک نہیں کر سکتے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3579]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی۔ میں نے خاوند کے گھر سے منتقل ہونے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: اپنے چچا کے بیٹے عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جا اور وہاں عدت پوری کر۔ (یہ سن کر) حضرت اسود رحمہ اللہ نے حضرت شعبی رحمہ اللہ کو مار کر کہا: تو مرے! ایسا فتویٰ کیوں دیتا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: اگر تو دو گواہ لے آئے جو گواہی دیں کہ واقعتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے یہ بات سنی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم ایک عورت کے کہنے سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا یہ حکم نہیں چھوڑ سکتے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] مطلقہ عورتوں کو گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود منتقل ہوں، الا یہ کہ وہ کسی واضح برائی کا ارتکاب کر بیٹھیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3581
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ:" طَلَّقَنِي زَوْجِي فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفْقَةً، قَالَتْ: فَوَضَعَ لِي عَشْرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ، خَمْسَةٌ شَعِيرٌ وَخَمْسَةٌ تَمْرٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ فُلَانٍ، وَكَانَ زَوْجُهَا طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَائِنًا".
ابوبکر بن حفص کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ دونوں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور میرے نفقہ و سکنیٰ کا انتظام نہ کیا، اور اپنے چچیرے بھائی کے یہاں میرے لیے دس قفیز رکھ دیئے: پانچ قفیز جو کے اور پانچ قفیز کھجور کے ۱؎، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو یہ ساری باتیں بتائیں تو آپ نے فرمایا: اس نے صحیح کہا ہے اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں فلاں کے گھر میں رہ کر اپنی عدت پوری کروں، ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائن دی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3581]
ابوبکر بن حفص رحمہ اللہ نے کہا کہ میں اور ابوسلمہ رحمہ اللہ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے۔ وہ فرمانے لگیں: مجھے میرے خاوند نے آخری طلاق دے دی، مجھے رہائش اور پورا نفقہ نہ دیا بلکہ اپنے ایک چچا زاد بھائی کے پاس میرے لیے دس قفیز رکھ چھوڑے: پانچ گندم کے اور پانچ جو کے۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور اس بارے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ درست کہتا ہے۔ اور مجھے کسی کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ انہیں ان کے خاوند نے طلاق بائنہ (جس کے بعد جماع ممکن نہ ہو) دے دی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3447 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قفیز آٹھ مکیال برابر سولہ کیلو گرام کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3582
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ طَلَّقَ ابْنَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأُمُّهَا حَمْنَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْبَتَّةَ، فَأَمَرَتْهَا خَالَتُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ بِالِانْتِقَالِ مِنْ بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَسَمِعَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى مَسْكَنِهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُخْبِرُهُ أَنَّ خَالَتَهَا فَاطِمَةَ أَفْتَتْهَا بِذَلِكَ وَأَخْبَرَتْهَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْتَاهَا بِالِانْتِقَالِ حِينَ طَلَّقَهَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيُّ" , فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ إِلَى فَاطِمَةَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرٍو لَمَّا أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِتَطْلِيقَةٍ وَهِيَ بَقِيَّةُ طَلَاقِهَا، فَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَتِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى الْحَارِثِ، وَعَيَّاشٍ تَسْأَلُهُمَا النَّفَقَةَ الَّتِي أَمَرَ لَهَا بِهَا زَوْجُهَا، فَقَالَا: وَاللَّهِ مَا لَهَا عَلَيْنَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا، وَمَا لَهَا أَنْ تَسْكُنَ فِي مَسْكَنِنَا إِلَّا بِإِذْنِنَا، فَزَعَمَتْ فَاطِمَةُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ،" فَصَدَّقَهُمَا"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْنَ أَنْتَقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" انْتَقِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَهُوَ الْأَعْمَى الَّذِي عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ"، فَانْتَقَلْتُ عِنْدَهُ فَكُنْتُ أَضَعُ ثِيَابِي عِنْدَهُ، حَتَّى أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَعَمَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ.
زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی کو طلاق بتہ دی ۱؎ لڑکی کی ماں کا نام حمنہ بنت قیس تھا، لڑکی کی خالہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا کہ عبداللہ بن عمرو کے گھر سے (کہیں اور) منتقل ہو جا، یہ بات مروان (مروان بن حکم) نے سنی تو انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی بیوی کو کہلا بھیجا کہ اپنے گھر میں آ کر اس وقت تک رہو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے، (اس کے جواب میں) اس نے مروان کو یہ خبر بھیجی کہ مجھے میری خالہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر چھوڑ دینے کا فتویٰ دیا تھا اور بتایا تھا کہ جب ان کے شوہر ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر سے منتقل ہو جانے کا حکم دیا تھا۔ (یہ قصہ سن کر) مروان نے قبیصہ بن ذویب (نامی شخص) کو (تحقیق واقعہ کے لیے) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ (وہ آئے) اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو کی بیوی تھیں اور وہ اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر (گورنر) بنا کر بھیجا تھا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن چلے گئے تھے اور وہاں سے انہوں نے انہیں وہ طلاق دے کر بھیجی جو باقی رہ گئی تھی اور حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما کو کہلا بھیجا تھا کہ وہ انہیں نفقہ دے دیں گے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حارث اور عیاش سے اس نفقہ کا مطالبہ کیا جسے انہیں دینے کے لیے ان کے شوہر نے ان سے کہا تھا، ان دونوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جواب دیا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے ذمہ کوئی نفقہ نہیں ہے، (یعنی ان کے لیے نفقہ کا حق ہی نہیں تھا) ہاں اگر وہ حاملہ ہوں (تو انہیں بیشک وضع حمل تک نفقہ مل سکتا ہے) اور اب ان کے لیے ہمارے گھر میں رہنے کا بھی حق نہیں بنتا، الا یہ کہ ہم انہیں (ازراہ عنایت) اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ (یہ باتیں سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ ساری باتیں آپ کو بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تصدیق کی (کہ انہوں نے صحیح بات بتائی ہے)۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ۔ یہ ابن ام مکتوم وہی نابینا شخص ہیں جن کی خاطر اللہ نے اپنی کتاب (قرآن پاک کی سورۃ عبس) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب فرمایا تھا۔ تو میں ان کے یہاں چلی گئی۔ (ان کے نہ دیکھ پانے کی وجہ سے بغیر کسی دقت و پریشانی کے) میں وہاں اپنے کپڑے اتار لیتی (اور تبدیل کر لیتی) تھی ۲؎ اور یہ سلسلہ اس وقت تک رہا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نہ کرا دی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3582]
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو بتہ (تیسری) طلاق دے دی۔ ان کی والدہ کا نام حضرت حمنہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تھا۔ چنانچہ ان کی خالہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اسے عبداللہ بن عمرو کے گھر سے منتقل ہونے کا حکم دیا۔ حضرت مروان نے بھی یہ بات سن لی۔ انہوں نے اسے پیغام بھیجا اور عدت ختم ہونے تک واپس اپنے گھر جانے کا حکم دیا۔ اس نے انہیں واپسی پیغام بھیجا کہ مجھے میری خالہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ فتویٰ دیا ہے اور بتایا ہے کہ جب انہیں ان کے خاوند حضرت ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاوند کے گھر سے منتقل ہونے کا حکم دیا تھا۔ حضرت مروان نے قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا اور اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں حضرت ابوعمرو رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن میں امیر مقرر فرمایا تو میرا خاوند بھی ان کے ساتھ گیا اور وہاں سے اس نے طلاق بھیج دی اور یہ آخری طلاق تھی جو باقی تھی، نیز اس نے حضرت حارث بن ہشام اور حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما کو مجھے نفقہ دینے کو کہا۔ میں نے حضرت حارث اور حضرت عیاش رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا کہ میرے خاوند کا بھیجا ہوا نان و نفقہ مجھے دیں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارے ذمے تیرا کوئی نفقہ نہیں الا یہ کہ تو حاملہ ہو۔ اور تو ہماری اجازت کے بغیر ہماری رہائش گاہ میں بھی نہیں رہ سکتی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری صورت حال بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق کی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہاں منتقل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ابن ام مکتوم کے ہاں چلی جا۔ وہ نابینا شخص ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اظہارِ ناراضی فرمایا تھا۔ میں ان کے ہاں منتقل ہو گئی۔ میں ان کے ہاں فالتو کپڑے اتار سکتی تھی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نکاح حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3224 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسی طلاق جس سے طالق کا مطلقہ سے ہر طرح کا رشتہ ختم ہو جائے اور مرد کا اس سے بغیر دوسری شادی کے نکاح ناجائز ہو۔ ۲؎: معلوم ہوا کہ بلاقصد و ارادہ عورت کی نگاہ اگر مرد پر پڑ جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا شخص کے گھر میں عورت کو عدت گزارنے کے لیے جو حکم صادر فرمایا اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ عورت کی ذات مرد کی نگاہوں سے پوری طرح محفوظ رہے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود یہ کہ فاطمہ کی نگاہ ابن ام مکتوم پر پڑ سکتی تھی پھر بھی آپ نے اس ناحیہ سے کوئی حکم صادر نہیں فرمایا، اب رہ گئی بات ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث «افعمیاوان انتما» کی تو اس سلسلہ میں امام ابوداؤد اپنی سنن (۴/۳۶۲) میں لکھتے ہیں کہ یہ ازواج مطہرات کے لیے خاص ہے، ابن حجر رحمہ اللہ نے تلخیص (۳/۱۴۸) میں ابوداؤد رحمہ اللہ کی اس تطبیق کو «جمع حسن» کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں