سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : الغيرة
باب: غیرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3415
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ إِزَارَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، وَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا، وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي , فَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي , وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ انْحَرَفَ وَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ وَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ، فَقَالَ:" مَا لَكِ يَا عَائِشُ رَابِيَةً؟ قَالَ سُلَيْمَانُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: حَشْيَا، قَالَ:" لَتُخْبِرِنِّي , أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ. قَالَ:" أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَتْ: فَلَهَدَنِي لَهْدَةً فِي صَدْرِي أَوْجَعَتْنِي، قَالَ:" أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ". قَالَتْ: مَهْمَا يَكْتُمُ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ , وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ , فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ وَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ , فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ". خَالَفَهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ.
محمد بن قیس سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر اپنا تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی، جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، تو آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بند کر دیا۔ میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی اور پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے عائشہ! سانس کیوں پھولی ہے؟ (سلیمان بن داود نے کہا: میرا خیال ہے کہ میرے شیخ نے یوں فرمایا: «حشیا»، یعنی) تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ بتا دے گا“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا، آپ نے فرمایا: ”تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے بخوبی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، پھر فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں، انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا (یعنی دھیرے سے کہا) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، تو میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ تمہیں جگاؤں۔ اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں (جبرائیل) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں“۔ حجاج بن محمد نے سند اس کے برعکس یوں بیان کی «عن ابن جریج، عن ابن ابی ملیکۃ، عن محمد بن قیس» ۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3415]
محمد بن قیس سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں؟ (ضرور بیان کریں۔) وہ فرمانے لگیں: ایک رات جب میری باری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عشاء کی نماز سے) واپس تشریف لائے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پاؤں کے قریب رکھ لیے، اپنی چادر اتاری اور اپنا تہ بند بستر پر بچھا لیا اور اتنی دیر لیٹے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا میں سو گئی ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے جوتے پہنے اور ہولے سے اپنی چادر اٹھائی اور ہلکے سے دروازہ کھول کر نکل گئے اور بغیر آہٹ کیے دروازہ بند کر دیا۔ میں نے فوراً قمیص پہنی، اوڑھنی لی، تہ بند کسا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع الغرقد میں پہنچ گئے اور تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر کھڑے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے تو میں بھی مڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تیز ہوئے تو میں بھی تیز چلنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھاگنے لگے تو میں بھی بھاگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑ لگا دی تو میں نے بھی دوڑ لگا دی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پہنچ گئی۔ میں حجرے میں داخل ہو کر ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے اور فرمایا: ”عائشہ! تجھے کیا ہوا ہے؟ پیٹ پھولا ہوا ہے اور سانس چڑھا ہوا ہے؟ مجھے بتا دے ورنہ باریک بین اور خبردار (اللہ) مجھے بتا دے گا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ہی وہ سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے میرے سینے میں ہاتھ مارا جس سے مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو سمجھتی تھی کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے؟“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ جس قدر بھی بات چھپائیں اللہ تعالیٰ جان ہی لیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے (مجھے اٹھتے) دیکھا تھا اس وقت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے۔ چونکہ تو کپڑے اتار چکی تھی، اس لیے وہ اندر نہیں آ سکے تھے۔ انہوں نے تجھ سے چھپا کر مجھے آواز دی، میں نے بھی تجھ سے چھپا کر انہیں جواب دیا۔ میں سمجھتا تھا کہ تو سو چکی ہے، لہٰذا میں نے تجھے جگانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ مجھے خطرہ تھا کہ تو اکیلی ڈرے گی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں بقیع والوں کے پاس جاؤں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کروں۔“ حجاج بن محمد نے (اس حدیث کے راوی) ابن وہب کی مخالفت کی ہے، اس نے سند یوں بیان کی ہے: «عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ» ”ابن جریج سے، وہ ابن ابی ملیکہ سے اور وہ محمد بن قیس سے روایت کرتے ہیں۔“ (جب کہ ابن وہب نے ابن جریج اور محمد بن قیس کے درمیان عبداللہ بن کثیر کا واسطہ بیان کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2039 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2040
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ , قَالَتْ: فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ تَتْبَعُهُ فَتَبِعَتْهُ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا کپڑا پہنا پھر (باہر) نکل گئے، تو میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے پیچھے جائے، چنانچہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع پہنچے، تو اس کے قریب کھڑے رہے جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے کھڑا رکھنا چاہا، پھر آپ پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے پلٹ کر آ گئی، اور اس نے مجھے بتایا، لیکن میں نے آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ صبح کیا، تو میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے حق میں دعا کروں“۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 2040]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، اپنے کپڑے پہنے اور پھر نکل گئے۔ میں نے اپنی لونڈی حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ آپ کا پیچھا کرے۔ اس نے آپ کا پیچھا کیا حتیٰ کہ آپ بقیع (جنت البقیع) میں پہنچ گئے اور اس کے ابتدائی حصے میں کھڑے (دعا کرتے) رہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر واپس چل پڑے۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آپ سے پہلے پہنچ گئیں اور مجھے سب کچھ بتا دیا۔ (آپ تشریف لائے تو) میں نے آپ سے کچھ نہ کہا حتیٰ کہ جب صبح ہوئی تو پھر میں نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکماً) کہا گیا تھا کہ میں بقیع میں مدفون لوگوں کے لیے دعائے رحمت و مغفرت کروں۔“ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17962)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (55)، مسند احمد 6/92 (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ’’ام علقمہ مرجانہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3416
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ، قَالَتْ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي , وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ , وَوَضَعَ رِدَاءَهُ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا , وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا , وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا، وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي فَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ، فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ، فَقَالَ:" مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً؟". قَالَتْ: لَا. قَالَ:" لَتُخْبِرِنِّي , أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، قَالَ:" فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُهُ أَمَامِي"، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ:" أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ". قَالَتْ: مَهْمَا يَكْتُمُ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ، فَنَادَانِي، فَأَخْفَى مِنْكِ , فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُ مِنْكِ، فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ , وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي , فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ". رَوَاهُ عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ عَلَى غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ.
محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تھے، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بھیڑ دیا، میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی، پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی اور میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے عائشہ! پیٹ کیسا پھولا ہے، تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟ بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ تعالیٰ بتا دے گا“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟“ انہوں نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جان ہی لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، (اور) کہا: جبرائیل میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں۔ انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا (یعنی دھیرے سے کہا) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں (جبرائیل) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں۔ عاصم نے یہ حدیث دوسرے الفاظ کے ساتھ عبداللہ بن عامر سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3416]
حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں اپنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! (ضرور بیان فرمائیں)۔ تو انہوں نے فرمایا: ایک رات جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں رات گزاری تھی، آپ (عشاء کی نماز پڑھ کر) تشریف لائے، آپ نے اپنے جوتے (اتار کر) چادر اتاری اور اپنے تہبند کا ایک کنارہ اپنے بستر پر بچھا لیا۔ آپ اتنی دیر لیٹے رہے کہ آپ نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں (حالانکہ میں جاگتی تھی)۔ پھر آپ نے چپکے سے جوتے پہنے، آہستہ سے چادر پکڑی، ہولے سے دروازہ کھول کر نکلے اور ہلکے سے دروازہ بند کر دیا۔ میں نے قمیص پہنی، اوڑھنی لی اور تہبند باندھا اور آپ کے پیچھے چل دی، حتیٰ کہ آپ بقیع میں پہنچ گئے۔ آپ نے تین دفعہ (بار بار دعا کے لیے) اپنے ہاتھ اٹھائے اور بہت دیر تک کھڑے رہے، پھر آپ واپس مڑے، میں بھی مڑی، آپ کچھ تیز ہوئے تو میں بھی تیز ہو لی، آپ بھاگنے لگے، میں بھاگنے لگی، آپ نے دوڑ لگا دی، میں نے بھی دوڑ لگا دی اور میں آپ سے پہلے گھر میں داخل ہو گئی۔ ابھی میں لیٹی ہی تھی کہ آپ بھی پہنچ گئے اور فرمایا: ”عائشہ! تجھے کیا ہوا؟ تیرا پیٹ پھولا ہوا ہے اور سانس چڑھا ہوا ہے؟“ میں نے کہا: کچھ بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے بتا دے ورنہ باریک بین خبر رکھنے والا (اللہ) مجھے بتا دے گا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر میں نے آپ کو پورا واقعہ بتا دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا تو ہی وہ سایہ تھا جسے میں نے اپنے آگے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے میرے سینے میں زور سے ہاتھ مارا کہ مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تو نے سمجھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے؟“ میں نے کہا: لوگ اللہ تعالیٰ سے جس قدر بھی بات چھپائیں، اللہ جان ہی لیتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”بالکل۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”جب تو نے (مجھے اٹھتے) دیکھا تھا، اس وقت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے لیکن وہ اندر نہیں آ سکتے تھے کیونکہ تو کپڑے اتار چکی تھی۔ چنانچہ انہوں نے تجھ سے چھپاتے ہوئے مجھے آہستہ سے آواز دی اور میں نے بھی تجھ سے چھپاتے ہوئے آہستہ سے جواب دیا۔ میرا خیال تھا کہ تو سو چکی ہے اور مجھے خطرہ تھا کہ (اگر تجھے جگا دیا تو) اکیلی ڈرے گی۔ تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں بقیع والوں کے پاس جا کر ان کے لیے بخشش کی دعا کروں۔“ اس روایت کو عاصم نے عن عبداللہ بن عامر عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2039 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن