سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3896
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ , فَقَالَ: وَلَمْ أَفْهَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ مِمَّا يَنْفَعُكُمْ:" نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ: الْمُزَارَعَةُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَجِيءُ إِلَى النَّخْلِ الْكَثِيرِ بِالْمَالِ الْعَظِيمِ فَيَقُولُ خُذْهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرِ ذَلِكَ الْعَامِ".
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا، اور میں اس (ممانعت کے راز) کو سمجھ نہیں سکا، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے سود مند تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے اس چیز سے جو تمہیں فائدہ دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں «حقل» سے روکا ہے۔ اور «حقل» کہتے ہیں: تہائی یا چوتھائی پیداوار کے بدلے زمین کو بٹائی پر دینا۔ لہٰذا جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے بے نیاز ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے اپنے بھائی کو دیدے، یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے، اور آپ نے تمہیں مزابنہ سے روکا ہے۔ مزابنہ یہ ہے کہ آدمی بہت سارا مال لے کر کھجور کے باغ میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سال کی اس مال کو (یعنی پاس میں موجود کھجور کو) اس سال کی (درخت پر موجود) کھجور کے بدلے اتنے اتنے وسق کے حساب سے لے لو۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3896]
حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور کہا: ... لیکن میں (ممانعت کی وجہ) نہیں سمجھ سکا ... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو تمہارے لیے مفید تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اس مفید کام سے تمہارے لیے بدرجہا بہتر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں «الْحَقْلُ» ”حقل“ سے روک دیا ہے، اور «الْحَقْلُ» سے مراد زمین کو تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض بٹائی پر دینا ہے، لہٰذا ”جس شخص کے پاس فالتو زمین ہے، جس کی اسے ضرورت نہیں تو وہ اپنے کسی (مسلمان غریب) بھائی کو دے دے یا پھر چھوڑ دے۔“ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ سے بھی منع فرمایا ہے، اور «الْمُزَابَنَةُ» یہ ہے کہ ایک شخص کھجور کے بہت سے درختوں کے پاس بہت سی خشک کھجوریں لے کر آئے اور کہے: یہ اتنے اتنے (یعنی معین) «وَسْقٌ» ”وسق“ کھجوروں کے عوض لے لے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3894 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3895
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ، نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَمْنَحْهَا , أَوْ لِيَدَعْهَا" , وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْمَالُ الْعَظِيمُ، مِنَ النَّخْلِ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُهَا بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ.
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ نے تمہیں محاقلہ سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: ”جس کی کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے کسی کو ہبہ کر دے یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے“، نیز آپ نے مزابنہ سے روکا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ کسی آدمی کے پاس درخت پر کھجوروں کے پھل کا بڑا حصہ ہو۔ پھر کوئی (دوسرا) آدمی اسے اتنی اتنی وسق ۱؎ ایسی ہی (گھر میں موجود) کھجور کے بدلے میں لے لے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3895]
حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو ہمارے لیے مفید تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں مزارعت (بٹائی) سے روک دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس فالتو زمین ہے، وہ کسی کو بطور عطیہ دے دے یا اسے ایسے ہی رہنے دے۔“ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے بھی منع فرما دیا ہے۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس بہت سے کھجور کے درخت ہوں۔ کوئی دوسرا شخص آئے اور درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو معین خشک کھجوروں کے عوض خریدے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ اور صاع اڑھائی کلوگرام کا، یعنی وسق =۱۵۰ کلوگرام۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3897
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَنَا، قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ". خَالَفَهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے مفید اور نفع بخش تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے اس سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے (کسی مسلمان) بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے“۔ اس میں عبدالکریم بن مالک نے ان (سعید بن عبدالرحمٰن) کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3897]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں (یعنی بڑے زمیندار انصار کو) ایک ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے، اگر وہ خود کاشت نہ کر سکے تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو (بلاعوض) کاشت کے لیے (وقتی طور پر) دے دے۔“ عبدالکریم بن مالک نے سعید بن عبدالرحمن کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3894 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”اسید بن رافع“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: عبدالکریم بن مالک کی روایت آگے آ رہی ہے، اور مخالفت ظاہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3900
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ:" لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ؟". قَالَ: لِفُلَانٍ , أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ. فَقَالَ:" لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ". فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے، پھر فرمایا: ”یہ زمین کس کی ہے؟“ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے، آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی (تو اچھا ہوتا)“، تب رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3900]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے، آپ جانتے تھے کہ وہ شخص محتاج ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ زمین کس کی ہے؟“ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے (بٹائی یا ٹھیکے) پر دی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر وہ اپنے اس (غریب) بھائی کو (وقتی طور پر عطیے کے طور پر) دے دیتا (تو کیا ہی خوب ہوتا)۔“ تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ انصار کے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو تمہارے لیے مفید تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3899 (صحیح) (سند میں راوی ’’ابراہیم‘‘ کا حافظہ کمزور تھا، اور سند میں انقطاع بھی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3902
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ يَمْنَحْهَا , أَوْ يَذَرْهَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے تو آپ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش تھی اور فرمایا: ”جس کے پاس کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اس میں کھیتی کرے یا وہ اسے کسی کو دیدے یا اسے (یونہی) چھوڑ دے“۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3902]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے نفع مند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی بھائی کو بطور عطیہ (کاشت کے لیے) دے دے، یا پھر پڑی رہنے دے۔“ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3894 (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3903
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا , وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا، قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ لِيَذَرْهَا , أَوْ لِيَمْنَحْهَا". وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ طَاوُسًا لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہماری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تو ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے چھوڑ دے یا اسے (کسی کو) دیدے“۔ اور اس بات کی دلیل کہ یہ حدیث طاؤس نے (رافع رضی اللہ عنہ سے خود) نہیں سنی ہے آنے والی حدیث ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3903]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے مفید تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی ہمارے لیے سب سے بڑھ کر بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس (فالتو) زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا پڑی رہنے دے یا کسی بھائی کو بطور وقتی عطیہ کے دے دے۔“ یہ حدیث (3904) دلالت کرتی ہے کہ طاوس نے یہ حدیث حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3899 (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3928
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ , فَقَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ، وَلَا رُبُعٍ، وَلَا طَعَامٍ مُسَمًّى". رَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعٍ فَاخْتَلَفَ عَلَى رَبِيعَةَ فِي رِوَايَتِهِ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، پھر کہتے ہیں کہ ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور بولے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے۔ ہم نے کہا: وہ کیا چیز ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو کھیتی کرنے کے لیے (بلا کرایہ) دیدے، لیکن اسے تہائی، چوتھائی اور معینہ مقدار غلہ کے بدلے کرائے پر نہ دے“۔ اسے حنظلہ بن قیس نے بھی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور (حنظلہ سے روایت کرنے والے) ربیعہ کے تلامذہ نے ربیعہ سے روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3928]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے مفید تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے، ہم نے پوچھا: وہ کون سا کام ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو (بطور تحفہ) کاشت کے لیے دے دے اور اسے پیداوار کے تہائی یا چوتھائی یا معین غلے کے عوض کرایہ پر نہ دے۔“ اس حدیث کو حنظلہ بن قیس نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (اور حنظلہ سے ربیعہ نے روایت کیا ہے) تو ربیعہ پر اس حدیث کی روایت میں (اس کے شاگردوں کی طرف سے) اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3926 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3954
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَافِعٍ:" أَتُؤَاجِرُونَ مَحَاقِلَكُمْ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسَاقِ مِنَ الشَّعِيرِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا , أَوْ أَعِيرُوهَا , أَوِ امْسِكُوهَا". خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ , فَقَالَ: عَنْ رَافِعٍ، عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اپنے کھیتوں کو اجرت پر دیتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم انہیں چوتھائی اور کچھ وسق جو پر بٹائی دیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، ان میں کھیتی کرو یا عاریتاً کسی کو دے دو، یا اپنے پاس رکھو“۔ اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر کی مخالفت کی ہے اور «عن رافع عن ظہیر بن رافع» کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3954]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم اپنی فالتو زمینیں بٹائی پر دیتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! ہم انہیں پیداوار کے چوتھائی حصے یا چند وسق جو کے عوض بٹائی پر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے نہ کرو، خود کاشت کرو یا کسی کو ایک دو سال کے لیے (عارتیاً) بلا معاوضہ کاشت کے لیے دے دو، ورنہ رکھے رکھو۔“ اوزاعی رحمہ اللہ نے اس (یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ) کی مخالفت کی ہے اور اس نے کہا ہے: «عَنْ رَافِعٍ عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ» ”رافع سے مروی ہے، وہ ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 18 (1548) سنن ابی داود/البیوع 32 (3394 تعلیقًا)، (تحفة الأشراف: 3574) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم