سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ: ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ رَافِعِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى قَوْمِهِ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ، فَقَالَ: يَا بَنِي حَارِثَةَ , لَقَدْ دَخَلَتْ عَلَيْكُمْ مُصِيبَةٌ، قَالُوا: مَا هِيَ؟ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِذًا نُكْرِيهَا بِشَيْءٍ مِنَ الْحَبِّ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: وَكُنَّا نُكْرِيهَا بِالتِّبْنِ؟ فَقَالَ:" لَا"، قَالَ: وَكُنَّا نُكْرِيهَا بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ السَّاقِي، قَالَ:" لَا ازْرَعْهَا , أَوِ امْنَحْهَا أَخَاكَ". خَالَفَهُ مُجَاهِدٌ.
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے قبیلہ یعنی بنی حارثہ کی طرف نکل کر گئے اور کہا: اے بنی حارثہ! تم پر مصیبت آ گئی ہے، لوگوں نے کہا: وہ مصیبت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! تو کیا ہم اسے کچھ اناج (غلہ) کے بدلے کرائے پر اٹھائیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، وہ کہتے ہیں: حالانکہ ہم اسے گھاس (چارہ) کے بدلے دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر کہا: ہم اسے اس پیداوار پر اٹھاتے تھے جو پانی کی کیاریوں کے پاس سے پیدا ہوتی ہے، آپ نے فرمایا: ”نہیں“، تم اس میں خود کھیتی کرو یا پھر اسے اپنے بھائی کو دے دو۔ مجاہد نے رافع بن اسید کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3893]
حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی قوم بنو حارثہ کی طرف گیا اور انہیں کہا: اے بنو حارثہ! تم پر ایک نئی مصیبت نازل ہوگئی ہے۔ وہ کہنے لگے: وہ کیا؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم معین غلے کے عوض بٹائی دے سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ہم معین توڑی کے عوض زمین پر کرایہ دیتے تھے یا نالوں کے قریب اگنے والی فصل کے عوض زمین بٹائی پر دیتے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔ خود کاشت کرو یا اپنے (دینی) بھائی کو بطور عطیہ (کچھ مدت کے لیے) دے دو۔“ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے حضرت رافع بن اسید رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 157) (صحیح) (اس کے راوی ”رافع بن اسید“ لین الحدیث ہیں، مگر متابعات وشواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: مخالفت یہ ہے کہ رافع بن اسید نے اس کو اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے، جب کہ مجاہد نے اس کو اسید بن ظہیر سے اور اسید نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کیا ہے، اور رافع بن اسید لین الحدیث راوی ہیں، جب کہ مجاہد ثقہ امام ہیں، بہرحال حدیث صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، رافع بن أسيد: مجهول (التحرير: 1860) لم يوثقه غير ابن حبان. والمحفوظ هو الحديث الآتي (الأصل: 3894) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
حدیث نمبر: 3894
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ , وَالْحَقْلُ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: شِرَاءُ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ".
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار پر (کھیتوں کو) بٹائی پر دینے سے اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ درختوں میں لگے کھجوروں کو اتنے اور اتنے میں (یعنی معین) وسق کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3894]
حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تمہیں تہائی یا چوتھائی پر زمین بطور بٹائی دینے سے روک دیا ہے“، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے بھی روک دیا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت کے اوپر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کی معین مقدار کے عوض خریدا یا بیچا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 32 (3398)، سنن ابن ماجہ/الرہون10(2460)، (تحفة الأشراف: 3549)، مسند احمد (3/464، 465، 466) ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3895-3897) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3895
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ، نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَمْنَحْهَا , أَوْ لِيَدَعْهَا" , وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْمَالُ الْعَظِيمُ، مِنَ النَّخْلِ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُهَا بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ.
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ نے تمہیں محاقلہ سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: ”جس کی کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے کسی کو ہبہ کر دے یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے“، نیز آپ نے مزابنہ سے روکا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ کسی آدمی کے پاس درخت پر کھجوروں کے پھل کا بڑا حصہ ہو۔ پھر کوئی (دوسرا) آدمی اسے اتنی اتنی وسق ۱؎ ایسی ہی (گھر میں موجود) کھجور کے بدلے میں لے لے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3895]
حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو ہمارے لیے مفید تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں مزارعت (بٹائی) سے روک دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس فالتو زمین ہے، وہ کسی کو بطور عطیہ دے دے یا اسے ایسے ہی رہنے دے۔“ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے بھی منع فرما دیا ہے۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس بہت سے کھجور کے درخت ہوں۔ کوئی دوسرا شخص آئے اور درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو معین خشک کھجوروں کے عوض خریدے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ اور صاع اڑھائی کلوگرام کا، یعنی وسق =۱۵۰ کلوگرام۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3896
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ , فَقَالَ: وَلَمْ أَفْهَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ مِمَّا يَنْفَعُكُمْ:" نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ: الْمُزَارَعَةُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَجِيءُ إِلَى النَّخْلِ الْكَثِيرِ بِالْمَالِ الْعَظِيمِ فَيَقُولُ خُذْهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرِ ذَلِكَ الْعَامِ".
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا، اور میں اس (ممانعت کے راز) کو سمجھ نہیں سکا، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے سود مند تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے اس چیز سے جو تمہیں فائدہ دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں «حقل» سے روکا ہے۔ اور «حقل» کہتے ہیں: تہائی یا چوتھائی پیداوار کے بدلے زمین کو بٹائی پر دینا۔ لہٰذا جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے بے نیاز ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے اپنے بھائی کو دیدے، یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے، اور آپ نے تمہیں مزابنہ سے روکا ہے۔ مزابنہ یہ ہے کہ آدمی بہت سارا مال لے کر کھجور کے باغ میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سال کی اس مال کو (یعنی پاس میں موجود کھجور کو) اس سال کی (درخت پر موجود) کھجور کے بدلے اتنے اتنے وسق کے حساب سے لے لو۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3896]
حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور کہا: ... لیکن میں (ممانعت کی وجہ) نہیں سمجھ سکا ... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو تمہارے لیے مفید تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اس مفید کام سے تمہارے لیے بدرجہا بہتر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں «الْحَقْلُ» ”حقل“ سے روک دیا ہے، اور «الْحَقْلُ» سے مراد زمین کو تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض بٹائی پر دینا ہے، لہٰذا ”جس شخص کے پاس فالتو زمین ہے، جس کی اسے ضرورت نہیں تو وہ اپنے کسی (مسلمان غریب) بھائی کو دے دے یا پھر چھوڑ دے۔“ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ سے بھی منع فرمایا ہے، اور «الْمُزَابَنَةُ» یہ ہے کہ ایک شخص کھجور کے بہت سے درختوں کے پاس بہت سی خشک کھجوریں لے کر آئے اور کہے: یہ اتنے اتنے (یعنی معین) «وَسْقٌ» ”وسق“ کھجوروں کے عوض لے لے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3894 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3897
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَنَا، قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ". خَالَفَهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے مفید اور نفع بخش تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے اس سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے (کسی مسلمان) بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے“۔ اس میں عبدالکریم بن مالک نے ان (سعید بن عبدالرحمٰن) کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3897]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں (یعنی بڑے زمیندار انصار کو) ایک ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے، اگر وہ خود کاشت نہ کر سکے تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو (بلاعوض) کاشت کے لیے (وقتی طور پر) دے دے۔“ عبدالکریم بن مالک نے سعید بن عبدالرحمن کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3894 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”اسید بن رافع“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: عبدالکریم بن مالک کی روایت آگے آ رہی ہے، اور مخالفت ظاہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3898
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ طَاوُسٍ حَتَّى أَدْخَلْتُهُ عَلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَحَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". فَأَبَى طَاوُسٌ , فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا. وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ: عَنْ رَافِعٍ مُرْسَلًا.
مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ میں انہیں لے کر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے (اسید) کے یہاں گیا، تو انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا، تو طاؤس نے انکار کر دیا اور کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور اس حدیث کو ابو عوانہ نے ابوحصین سے، اور ابوحصین نے مجاہد سے، اور مجاہد نے رافع رضی اللہ عنہ سے مرسلاً (یعنی منقطعا) روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3898]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت طاوس رحمہ اللہ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے کسی بیٹے کے پاس لاکھڑا کیا، تو اس نے انہیں اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین بٹائی پر دینے سے منع کیا ہے۔“ لیکن حضرت طاوس رحمہ اللہ نے اسے تسلیم نہ کیا، وہ فرمانے لگے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خود سنا ہے، وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ یہ روایت ابوعوانہ رحمہ اللہ نے ابو حصین رحمہ اللہ سے، انہوں نے مجاہد رحمہ اللہ سے اور مجاہد رحمہ اللہ نے ابورافع رضی اللہ عنہ سے مرسل بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع21 (1550) (تحفة الأشراف: 3591) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سابقہ تمام سندوں میں مجاہد اور رافع کے درمیان یا تو اسید بن رافع بن خدیج یا اسید بن ظہیر کسی ایک کا واسطہ ہے اور اس سند میں یہ واسطہ ساقط ہے، اس لیے یہ سند منقطع ہے مگر متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3899
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ:" نَهَانَا أَنْ نَتَقَبَّلَ الْأَرْضَ بِبَعْضِ خَرْجِهَا". تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، آپ کا حکم سر آنکھوں پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ ابراہیم بن مہاجر نے ابوحصین کی متابعت کی ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3899]
حضرت رافع بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے مفید تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سر اور آنکھوں پر (بسر و چشم تسلیم کیا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ: ”ہم زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرایہ پر دیں۔“ ابراہیم بن مہاجر نے (ابوحصین کی) متابعت کی ہے (اسی طرح حکم اور عبدالملک نے بھی)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام42(1384)، (تحفة الأشراف: 3578)، مسند احمد (1/286)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2900-3903) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3900
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ:" لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ؟". قَالَ: لِفُلَانٍ , أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ. فَقَالَ:" لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ". فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے، پھر فرمایا: ”یہ زمین کس کی ہے؟“ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے، آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی (تو اچھا ہوتا)“، تب رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3900]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے، آپ جانتے تھے کہ وہ شخص محتاج ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ زمین کس کی ہے؟“ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے (بٹائی یا ٹھیکے) پر دی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر وہ اپنے اس (غریب) بھائی کو (وقتی طور پر عطیے کے طور پر) دے دیتا (تو کیا ہی خوب ہوتا)۔“ تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ انصار کے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو تمہارے لیے مفید تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3899 (صحیح) (سند میں راوی ’’ابراہیم‘‘ کا حافظہ کمزور تھا، اور سند میں انقطاع بھی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3901
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حقل» سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3901]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3899 (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: «حقل» کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے مقصد تہائی اور چوتھائی کے بٹائی دینے کا معاملہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3902
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ يَمْنَحْهَا , أَوْ يَذَرْهَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے تو آپ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش تھی اور فرمایا: ”جس کے پاس کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اس میں کھیتی کرے یا وہ اسے کسی کو دیدے یا اسے (یونہی) چھوڑ دے“۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3902]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے نفع مند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی بھائی کو بطور عطیہ (کاشت کے لیے) دے دے، یا پھر پڑی رہنے دے۔“ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3894 (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن