🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3913
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْحَقْلِ وَهِيَ الْمُزَابَنَةُ". خَالَفَهُ هِشَامٌ وَرَوَاهُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «حقل» (تہائی، چوتھائی پر بیع)، اور یہی مزابنہ ہے، سے منع فرمایا۔ ہشام نے معاویہ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے «عن یحییٰ عن ابی سلمہ عن جابر» کی سند سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3913]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْحَقْلِ» حقل سے منع فرمایا ہے اور اس سے مراد «الْمُزَابَنَةُ» مزابنہ ہے۔ ہشام بن ابی عبداللہ نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3913]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17(1536)، (تحفة الأشراف: 3145) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ، وَقَالَ:" الْمُخَاضَرَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَزْهُوَ، وَالْمُخَابَرَةُ: بَيْعُ الْكَرْمِ بِكَذَا وَكَذَا صَاعٍ". خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور مخاضرہ سے منع فرمایا ہے۔ اور کہا مخاضرہ: پھل کو پکنے سے پہلے بیچنا اور مخابرہ (درخت کی) انگور کو خشک انگور کے اتنے اتنے صاع کے بدلے بیچنا ہے۔ اس میں عمرو بن ابی سلمہ نے یحییٰ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے اپنے باپ ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ نے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3914]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور مخاضرہ سے منع فرمایا ہے، اور مخاضرہ یہ ہے کہ پھل پکنے سے قبل اس کی بیع کی جائے، اور مخابرہ یہ ہے کہ درخت پر لگے انگوروں کی بیع مقررہ وزن کی منقیٰ (خشک انگوروں) سے کی جائے۔ عمر بن ابوسلمہ نے یحییٰ بن ابوکثیر کی مخالفت کی ہے کہ انہوں نے «عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا ہے (جبکہ یحییٰ نے «عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ» ابوسلمہ سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3164) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3915
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ"، خَالَفَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ محمد بن عمرو نے عمر بن ابی سلمہ اور یحییٰ دونوں کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3915]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ) اور «الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ) سے منع فرمایا۔ محمد بن عمرو لیثی نے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمر بن ابوسلمہ کی مخالفت کی ہے اور اسے ابوسلمہ کے واسطے سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14986)، مسند احمد (2/484) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3916
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ". خَالَفَهُمْ الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسود بن علاء نے ان سب کی مخالفت کی ہے، اور حدیثوں روایت کی ہے: عن ابی سلمۃ عن رافع بن خدیج۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3916]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ اسود بن علاء نے ان (تینوں، یعنی محمد بن عمرو، بن ابوسلمہ اور یحییٰ بن ابوکثیر) کی مخالفت کی ہے اور (اس نے اپنی سند میں) کہا ہے: «عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ» ابوسلمہ سے، وہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4431)، مسند احمد (3/67)، سنن الدارمی/البیوع 23 (2599) (حسن صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3917
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ". رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ و مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسے قاسم بن محمد نے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3917]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ یہ روایت قاسم بن محمد نے بھی حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3590) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3918
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ فَحَدَّثَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَرَّةً أُخْرَى.
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے بٹائی پر کھیت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی نے دوسری مرتبہ (روایت کرتے ہوئے) کہا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3918]
عثمان بن مرہ نے کہا کہ میں نے قاسم (بن محمد) سے مزارعت (مضاربت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ نے ایک دوسری بار یوں فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «t»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3919
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". وَاخْتُلِفَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِيهِ.
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے زمین کرائے پر دینے کے سلسلے میں پوچھا تو وہ بولے: رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ اس حدیث کی روایت میں سعید بن مسیب پر اختلاف واقع ہوا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3919]
حضرت عثمان بن مرہ نے کہا کہ میں نے حضرت قاسم سے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے (بٹائی یا ٹھیکے) پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث میں سعید بن مسیب پر اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: خود اس زمین سے پیدا ہونے والے غلہ کے بدلے کرایہ اٹھانے سے منع فرمایا، کیونکہ خود رافع رضی اللہ عنہ نے سونا چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کا فتویٰ دیا ہے۔ نیز مرفوعاً بھی روایت کی ہے (دیکھئیے حدیث رقم ۳۹۲۱، و ۳۹۲۹)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3920
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ: أَرْسَلَنِي عَمِّي وَغُلَامًا لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُزَارَعَةِ؟ فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا , حَتَّى بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ فَلَقِيَهُ، فَقَالَ رَافِعٌ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا، فَقَالَ:" مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ". فَقَالُوا: لَيْسَ لِظُهَيْرٍ. فَقَالَ:" أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ؟" قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَزْرَعَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا زَرْعَكُمْ , وَرُدُّوا إِلَيْهِ نَفَقَتَهُ"، قَالَ: فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا , وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ نَفَقَتَهُ. وَرَوَاهُ طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدٍ , وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ.
ابوجعفر خطمی جن کا نام عمیر بن یزید ہے، کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک بچے کو سعید بن مسیب کے پاس بٹائی پر زمین دینے کے بارے میں مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پہنچی تو وہ ان سے ملے۔ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارثہ کے پاس آئے تو ایک کھیتی کو دیکھ کر فرمایا: ظہیر کی کھیتی کس قدر اچھی ہے! لوگوں نے عرض کیا: یہ (کھیتی) ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن انہوں نے اسے بٹائی پر اٹھا رکھا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کھیتی لے لو اور اس پر آنے والی خرچ اسے دے دو، تو ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور ان کا خرچہ انہیں لوٹا دیا۔ اسے طارق بن عبدالرحمٰن نے بھی سعید بن مسیب سے روایت کیا اور اس میں طارق سے روایت کرنے میں اختلاف ہوا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3920]
حضرت ابوجعفر عمیر بن یزید خطمی سے روایت ہے کہ میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس بٹائی کے بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا، تو وہ فرمانے لگے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ ان کے پاس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے ہاں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھیت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہیر کی کھیتی کس قدر اچھی ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ کھیتی ظہیر کی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں؟ لوگوں نے کہا: ضرور یہ زمین اسی کی ہے مگر اس نے آگے کرائے پر دے رکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کھیتی لو اور اس سے اس کا خرچہ واپس کر دو۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے اپنی کھیتی (فصل) لے لی اور مزارع کو اس کا خرچہ اور محنت واپس کر دی۔ طارق بن عبدالرحمن نے اس روایت کو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے لیکن راویوں نے اس حدیث میں ان پر اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 32 (3399)، (تحفة الأشراف: 3558) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3921
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ:" إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا أَوْ رَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، أَوْ رَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ". مَيَّزَهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ طَارِقٍ، فَأَرْسَلَ الْكَلَامَ الْأَوَّلَ , وَجَعَلَ الْأَخِيرَ مِنْ قَوْلِ سَعِيدٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ۱؎ اور فرمایا: کھیتی تین طرح کے لوگ کرتے ہیں: ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً (بلامعاوضہ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی (نقد) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو۔ اس حدیث کو اسرائیل نے طارق سے روایت کرتے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو الگ الگ کر دیا ہے، پہلے ٹکڑے ۲؎ کو مرسلاً (بطور کلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) روایت کیا اور دوسرے ٹکڑے کو سعید بن مسیب کا قول بتایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3921]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: کاشت کار تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک تو وہ جس کی اپنی زمین ہے اور وہ اس میں کاشت کرتا ہے۔ دوسرا وہ شخص جسے کچھ عرصے کے لیے زمین کاشت کے لیے (بطور عطیہ) دے دی جاتی ہے اور وہ اس میں کاشت کرتا ہے۔ تیسرا وہ جو زمین سونے چاندی کے عوض کرائے (ٹھیکے) پر لیتا ہے۔ (امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ) اسرائیل نے اس روایت کو طارق سے سن کر جدا کیا، چنانچہ اس نے پہلے کلام کو مرسل کیا اور آخری کلام «أَنْ يَزْرَعَ ثَلَاثَةٌ...» کہ کاشت کاری تین طرح کے لوگ کرتے ہیں کے متعلق کہا کہ یہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے، حدیثِ رسول نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 32 (3400)، سنن ابن ماجہ/الرہون 7 (2449)، (تحفة الأشراف: 3557)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3922-3924) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ (بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد: درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا ہے۔ ۲؎: پہلی بات سے مراد «نہیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن المحاقلۃ والمزابنۃ» ہے اور آخری بات سے مراد «إنما یزرع ثلاثۃ، الیٰ آخرہ» ہے۔ یعنی: پہلی روایت میں آخری ٹکڑے کو درج کر کے اس کو مرفوع بنا دیا ہے، حالانکہ یہ سعید بن مسیب کا اپنا قول ہے، اسرائیل کی روایت جسے انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے، دونوں ٹکڑوں کو چھانٹ کر الگ الگ کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3922
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ". قَالَ سَعِيدٌ: فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ. رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ طَارِقٍ.
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا، پھر راوی (اسرائیل) نے دوسری بات کو اسی طرح بیان کیا (یعنی دوسرا قول ابن المسیب کا ہے)، اسے طارق سے سفیان ثوری نے بھی روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3922]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ سعید رحمہ اللہ نے کہا... اور آگے انہوں نے اسی (مذکورہ روایت) کی طرح ذکر کیا (یعنی «أَنْ يَزْرَعَ ثَلَاثَةٌ» کہ تین شخص کاشت کریں) سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی طارق سے یہ حدیث روایت کی ہے (جس طرح کہ اسرائیل نے طارق سے روایت کی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3921 (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں