🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: الثَّالِثُ مِنَ الشُّرُوطِ فِيهِ الْمُزَارَعَةُ وَالْوَثَائِقُ
باب: (سابقہ دو شرط قسم اور نذر کے ذکر کے بعد) تیسری شرط کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3888
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" إِذَا اسْتَأْجَرْتَ أَجِيرًا فَأَعْلِمْهُ أَجْرَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم کسی مزدور سے مزدوری کراؤ تو اسے اس کی اجرت بتا دو۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3888]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تو کسی مزدور سے مزدوری کرانا چاہے (کسی شخص کو نوکر اور ملازم رکھے) تو اسے اس کی اجرت صاف بتا دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3958)، مسند احمد (3/59، 68، 71)، مرفوعاً (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابرہیم نخعی‘‘ کا ابو سعید خدری سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے لیکن اس اثر کا معنی صحیح ہے، آگے کے آثار دیکھیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، إبراهيم النخعي لم يسمع من أبى سعيد الخدري رضى الله عنه كما فى تحفة الأشراف (3/ 326) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3889
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ:" كَرِهَ أَنْ يَسْتَأْجِرَ الرَّجُلَ حَتَّى يُعْلِمَهُ أَجْرَهُ".
حسن بصری سے روایت ہے کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی کسی آدمی سے اس کی اجرت بتائے بغیر مزدوری کرائے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3889]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے ناپسند فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی اجرت اور مزدوری بتائے بغیر مزدور رکھا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18575) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، يونس بن عبيد عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3890
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ حَمَّادٍ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ: رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا عَلَى طَعَامِهِ؟ قَالَ:" لَا حَتَّى تُعْلِمَهُ".
حماد بن ابی سلیمان سے روایت ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی مزدور سے اس کے کھانے کے بدلے کام لے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں (درست نہیں) یہاں تک کہ وہ اسے بتا دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3890]
حضرت حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا کسی کو نوکر رکھا جا سکتا ہے اس شرط پر کہ اسے کھانا ملے گا؟ فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ اسے بتلا دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18592) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3891
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، وَقَتَادَةَ:" في رجل قَالَ لِرَجُلٍ: أَسْتَكْرِي مِنْكَ إِلَى مَكَّةَ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ سِرْتُ شَهْرًا أَوْ كَذَا وَكَذَا شَيْئًا سَمَّاهُ فَلَكَ زِيَادَةُ كَذَا وَكَذَا. فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا , وَكَرِهَا أَنْ يَقُولَ: أَسْتَكْرِي مِنْكَ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ سِرْتُ أَكْثَرَ مِنْ شَهْرٍ نَقَصْتُ مِنْ كِرَائِكَ كَذَا وَكَذَا".
حماد اور قتادہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے سلسلے میں پوچھا گیا، جس نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھ سے مکے تک کے لیے اتنے اور اتنے میں کرائے پر (سواری) لیتا ہوں۔ اگر میں ایک مہینہ یا اس سے کچھ زیادہ - اور اس نے فاضل مسافت کی تعیین کر دی - چلا تو تیرے لیے اتنا اور اتنا زیادہ کرایہ ہو گا۔ تو اس (صورت) میں انہوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ لیکن اس (صورت) کو انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ کہے کہ میں تم سے اتنے اور اتنے میں کرائے پر (سواری) لیتا ہوں، اب اگر مجھے ایک مہینہ سے زائد چلنا پڑا ۱؎، تو میں تمہارے کرائے میں سے اسی قدر اتنا اور اتنا کاٹ لوں گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3891]
حضرت حماد رحمہ اللہ اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہے کہ میں تجھ سے مکہ تک کے لیے سواری اتنے کرایہ پر لیتا ہوں، اگر پورا مہینہ یا اتنی مدت (جس کی وہ صراحت کرے) سفر میں رہا تو تجھے اتنے روپے مزید دوں گا۔ تو ان دونوں بزرگوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ البتہ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ وہ کہے: میں تجھ سے یہ سواری اتنے کرایہ پر لیتا ہوں اور اگر میں ایک ماہ سے زیادہ سفر میں رہا تو تجھے اتنا کرایہ کم دوں گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18593) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: سواری کی سست رفتاری کے سبب ایسا کرنا پڑا تو ایسا کروں گا ۲؎: متعین مسافت (دوری) کو تیزی کی وجہ سے وقت سے پہلے طے کر لینے پر زیادہ اجرت بطور انعام و اکرام ہے اس لیے دونوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے، اور دھیرے دھیرے چلنے کی وجہ سے کرائے میں کمی کرنا ظلم اور دوسرے کے حق کو چھیننے کے مشابہ ہے، یہی وجہ کہ دونوں نے اس دوسری صورت کو مکروہ جانا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3892
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: عَبْدٌ أُؤَاجِرُهُ سَنَةً بِطَعَامِهِ، وَسَنَةً أُخْرَى بِكَذَا وَكَذَا. قَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ وَيُجْزِئُهُ اشْتِرَاطُكَ حِينَ تُؤَاجِرُهُ أَيَّامًا أَوْ آجَرْتَهُ وَقَدْ مَضَى بَعْضُ السَّنَةِ"، قَالَ: إِنَّكَ لَا تُحَاسِبُنِي لِمَا مَضَى.
ابن جریج کہتے ہںي کہ میں نے عطا سے کہا: اگر میں ایک غلام کو ایک سال کھانے کے بدلے اور ایک سال تک اتنے اور اتنے مال کے بدلے نوکر رکھوں (تو کیا حکم ہے)؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، اور جب تم اسے اجرت (مزدوری) پر رکھو تو اس کے لیے تمہارا اس وقت اتنا کہنا کافی ہے کہ اتنے دنوں تک اجرت (مزدوری) پر رکھوں گا۔ (ابن جریج نے کہا) یا اگر میں نے اجرت (مزدوری) پر رکھا اور سال کے کچھ دن گزر گئے ہوں؟ عطاء نے کہا: تم گزرے ہوئے دن کو شمار نہیں کرو گے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3892]
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا: میں ایک غلام کو ایک سال کے لیے صرف خوراک کی شرط پر اور ایک سال کے لیے اتنی (معین) رقم پر نوکر رکھتا ہوں (کیا یہ جائز ہے؟) انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں اور نوکر رکھتے وقت جو شرط لگا لے، وہ درست ہے۔ (میں نے کہا:) اگر میں اسے نوکر رکھوں جبکہ سال کا کچھ حصہ گزر چکا ہو؟ وہ فرمانے لگے: تو گزشتہ دنوں کا حساب نہیں کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19075) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں