🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3923
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَارِقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ:" لَا يُصْلِحُ الزَّرْعَ غَيْرُ ثَلَاثٍ أَرْضٍ يَمْلِكُ رَقَبَتَهَا، أَوْ مِنْحَةٍ، أَوْ أَرْضٍ بَيْضَاءَ يَسْتَأْجِرُهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ". وَرَوَى الزُّهْرِيُّ الْكَلَامَ الْأَوَّلَ عَنْ سَعِيدٍ فَأَرْسَلَهُ.
طارق کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب کو کہتے سنا: تین قسم کی زمینوں کے علاوہ میں کھیتی درست نہیں: وہ زمین جو کسی کی اپنی ملکیت ہو، یا وہ اسے عطیہ دی گئی ہو، یا وہ زمین جسے آدمی سونے چاندی کے بدلے کرائے پر لی ہو۔ زہری نے صرف پہلی بات سعید بن سعید سے مرسلاً روایت کی۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3923]
حضرت طارق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو فرماتے سنا کہ کاشتکاری تین قسم ہی کی ہو سکتی ہے: اپنی مملوکہ زمین میں کاشت کی جائے، وقتی عطیے کے طور پر ملی ہوئی زمین میں کاشت کی جائے یا خالی زمین سونے چاندی (یعنی روپے پیسے) کے عوض ٹھیکے پر لے کر کاشت کی جائے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے کلامِ اول کو سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا اور انہوں نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3921 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3924
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ". وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ.
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسے محمد بن عبدالرحمٰن بن لبیبہ نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے اور «عن سعد بن أبي وقاص» کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3924]
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ محمد بن عبدالرحمن بن لبیبہ نے اسے سعید بن مسیب سے روایت کیا اور انہوں نے کہا کہ یہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن مرفوع روایات سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3925
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ الْمَزَارِعِ يُكْرُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَزَارِعَهُمْ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّاقِي مِنَ الزَّرْعِ , فَجَاءُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاخْتَصَمُوا فِي بَعْضِ ذَلِكَ , فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْرُوا بِذَلِكَ، وَقَالَ:" أَكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ". وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُلَيْمَانُ، عَنْ رَافِعٍ، فَقَالَ: عَنْ رَجُلٍ مِنْ عُمُومَتِهِ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کھیتوں والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے کھیت کرائیے پر اس اناج کے بدلے دیا کرتے تھے جو کھیتوں کی مینڈھوں پر ہوتا ہے۔ تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس سلسلے میں کسی چیز کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا۔ تو آپ نے انہیں اس کے (غلہ کے) بدلے کرائے پر دینے سے منع فرما دیا اور فرمایا: سونے چاندی کے بدلے کرائے پر دو۔ اس حدیث کو سلیمان بن یسار نے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنے چچاؤں میں کسی چچا کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3925]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فالتو زمین رکھنے والے اپنی زمینیں پانی کے نالوں کے قریب اگنے والی فصل کے عوض بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ پھر (بسا اوقات) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اس کی بابت آپس میں لڑتے جھگڑتے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طرح بٹائی پر دینے سے منع کر دیا اور فرمایا: سونے چاندی (روپے پیسے) کے عوض ٹھیکے پر دیا کرو۔ سلیمان نے رافع سے یہ حدیث بیان کی تو کہا: «عَنْ رَجُلٍ مِنْ عُمُومَتِهِ» (ان کے چچاؤں میں سے ایک صاحب سے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 31 (3391)، (تحفة الأشراف: 3860)، مسند احمد (1/178، 182)، سنن الدارمی/البیوع 75 (2660) (حسن) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ’’محمد بن عکرمہ‘‘ لین الحدیث، اور ’’محمد بن عبدالرحمن بن لبیبہ‘‘ ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3391) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3926
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي، فَقَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ , وَنُكْرِيَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى , وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا , أَوْ يُزْرِعَهَا , وَكَرِهَ كِرَاءَهَا". وَمَا سِوَى ذَلِكَ أَيُّوبُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ يَعْلَى.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، ہم اسے تہائی یا چوتھائی یا غلہ کی متعینہ مقدار کے عوض کرائیے پر دیتے تھے۔ تو ایک دن میرے ایک چچا آئے اور انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، آپ نے ہمیں زمین میں بٹائی کا معاملہ کر کے انہیں تہائی اور چوتھائی یا متعینہ مقدار کے غلے کے بدلے کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے۔ اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ اس میں کھیتی کرے، یا اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے اور اسے کرائے پر اٹھانا یا اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں انہیں ناپسند فرمایا۔ ایوب نے اس حدیث کو یعلیٰ سے نہیں سنا ہے، (بلکہ بذریعہ کتابت روایت کی ہے جیسا کہ اگلی سند سے ظاہر ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3926]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی زمینیں پیداوار کی تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدار میں غلے کے عوض بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ ایک دن میرے چچاؤں میں سے کوئی صاحب آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے بہت مفید تھا، جبکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمینیں پیداوار کے تہائی یا چوتھائی حصے یا معین غلے کے عوض بٹائی پر دینے سے منع فرما دیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کاشت کرے یا کسی (مسلمان بھائی) کو بلا معاوضہ کاشت کے لیے دے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی ٹھیکے وغیرہ کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ ایوب نے یعلی بن حکیم سے یہ حدیث نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2346)، 19 (2337)، صحیح مسلم/البیوع 18 (1548)، سنن ابی داود/البیوع 32 (3395)، سنن ابن ماجہ/الرہون 12 (2465)، (تحفة الأشراف: 3559، 15570)، مسند احمد (3/465، 4/169)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3927- 3929، 3940، 3941) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3927
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ , إِنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ:" كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ , نُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى". رَوَاهُ سَعِيدٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے، ہم اسے تہائی اور چوتھائی اور غلہ کی مقررہ مقدار کے بدلے کرائیے پر دیتے تھے۔ سعید نے بھی اسے یعلیٰ بن حکیم سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3927]
ایوب بیان کرتے ہیں کہ یعلی بن حکیم نے مجھے لکھا ہے کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سنا، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اپنی فالتو زمینیں پیداوار کی تہائی یا چوتھائی یا معین غلے کے عوض بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ سعید نے یہ روایت یعلی بن حکیم سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3928
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ , فَقَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ، وَلَا رُبُعٍ، وَلَا طَعَامٍ مُسَمًّى". رَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعٍ فَاخْتَلَفَ عَلَى رَبِيعَةَ فِي رِوَايَتِهِ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، پھر کہتے ہیں کہ ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور بولے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے۔ ہم نے کہا: وہ کیا چیز ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو کھیتی کرنے کے لیے (بلا کرایہ) دیدے، لیکن اسے تہائی، چوتھائی اور معینہ مقدار غلہ کے بدلے کرائے پر نہ دے۔ اسے حنظلہ بن قیس نے بھی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور (حنظلہ سے روایت کرنے والے) ربیعہ کے تلامذہ نے ربیعہ سے روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3928]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے مفید تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے، ہم نے پوچھا: وہ کون سا کام ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو (بطور تحفہ) کاشت کے لیے دے دے اور اسے پیداوار کے تہائی یا چوتھائی یا معین غلے کے عوض کرایہ پر نہ دے۔ اس حدیث کو حنظلہ بن قیس نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (اور حنظلہ سے ربیعہ نے روایت کیا ہے) تو ربیعہ پر اس حدیث کی روایت میں (اس کے شاگردوں کی طرف سے) اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3926 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي:" أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِي صَاحِبُ الْأَرْضِ , فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ". فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ كِرَاؤُهَا بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمِ. خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیاریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی (الگ) کر لیتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا۔ میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: تو دینار اور درہم سے کرائے پر دینا کیسا تھا؟ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: دینار اور درہم کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اوزاعی نے لیث کی مخالفت کی ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے جس میں چچا کا ذکر نہیں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3929]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھے میرے چچا نے بیان فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نالوں کے قریب اگنے والی کھیتی یا متعین غلہ جسے زمین والا خود مستثنیٰ کرتا تھا، کے عوض زمین کرائے پر دیتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے منع فرما دیا۔ (راوی کہتا ہے:) میں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا: دینار اور درہم (روپے پیسے) کے عوض ٹھیکے پر زمین دینا کیسا ہے؟ تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سونے چاندی (روپے پیسے) کے عوض ٹھیکے پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس (لیث) کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3926 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3930
أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالدِّينَارِ , وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَاجِرُونَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ , وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، فَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ". وَافَقَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَلَى إِسْنَادِهِ , وَخَالَفَهُ فِي لَفْظِهِ.
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے دینار اور چاندی کے بدلے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اس پیداوار کے بدلے کرائے دیا کرتے تھے جو کیاریوں اور نالیوں کے اوپر پیدا ہوتی ہے، تو کبھی اس جگہ پیداوار ہوتی اور دوسری جگہ نہیں ہوتی اور کبھی یہاں نہیں ہوتی اور دوسری جگہ ہوتی، لوگوں کا بٹائی پر دینے کا یہی طریقہ ہوتا، اس لیے اس پر زجر و توبیخ ہوئی۔ رہی معین چیز (پر بٹائی) جس کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مالک بن انس نے بھی اوزاعی کی سند میں (چچا کے نہ ذکر کرنے میں) موافقت کی ہے لیکن الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3930]
حضرت حنظلہ بن قیس انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی (روپے پیسے) کے عوض زمین کرائے پر دینے سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ اصل بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگ اپنی زمینیں نالوں کے ساتھ ساتھ اور نالوں (موہگوں) کے سامنے اگنے والی فصل کے عوض بٹائی پر دیتے تھے۔ کبھی اس حصے کی فصل محفوظ رہتی اور دوسرے حصے کی ضائع ہو جاتی، کبھی دوسرے حصے کی فصل محفوظ رہتی اور اس حصے کی فصل ضائع ہو جاتی۔ اس وقت زمین کے کرائے کی یہ شکل ہی رائج تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ لیکن کوئی اور معلوم اور معین چیز (رقم) مقرر کر لی جائے جس کا کوئی ضامن بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ مالک بن انس رحمہ اللہ نے اس (اوزاعی) کی سند میں موافقت کی ہے اور اس (اوزاعی) کے الفاظ میں اس کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 7 (2327)، 12 (2332)، 19(2346)، الشروط 7 (2722)، صحیح مسلم/البیوع 19 (1547)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3392)، سنن ابن ماجہ/الرہون 9 (2458) (تحفة الأشراف: 3553)، مسند احمد (3/463، 4/140، 142)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3931-3933) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3931
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". قُلْتُ: بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا بِمَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ فَلَا بَأْسَ". رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَبِيعَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روکا ہے، میں نے کہا: سونے، چاندی کے بدلے؟ کہا: نہیں (اس سے نہیں روکا ہے)۔ آپ نے تو اس سے صرف اس کی پیداوار کے بدلے روکا ہے۔ رہا سونا اور چاندی (کے بدلے کرایہ پر دینا) تو اس میں کوئی حرج نہیں سفیان ثوری نے بھی اسے ربیعہ سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3931]
حضرت حنظلہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے (بٹائی) پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: سونے چاندی (دینار، درہم یعنی روپے پیسے) کے ساتھ بھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف زمین کی پیداوار کے عوض دینے سے منع فرمایا تھا۔ سونے چاندی کے عوض تو کوئی حرج نہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت ربیعہ سے بیان کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ (لیکن اس کا کوئی نقصان نہیں ہے کیونکہ اکثر لوگوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3932
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَقَالَ:" حَلَالٌ لَا بَأْسَ بِهِ ذَلِكَ فَرْضُ الْأَرْضِ". رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، وَرَفَعَهُ. كَمَا رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ.
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے، چاندی کے بدلے صاف زمین کرائے پر اٹھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: حلال ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، یہ زمین کا حق ہے۔ یحییٰ بن سعید نے بھی اسے حنظلہ بن قیس سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع کیا ہے جیسا کہ مالک نے ربیعہ سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3932]
حضرت حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے خالی زمین سونے چاندی کے عوض ٹھیکے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، منع تو تب ہے جب زمین کی پیداوار کے حصے کے عوض دی جائے۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ سے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے، جس طرح کہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے ربیعہ رحمہ اللہ سے مرفوع بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر أیضا حدیث رقم: 3930 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں