🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3937
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: كَانَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: لَيْسَ بِاسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسٌ , وَكَانَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ ذَلِكَ"، وَافَقَهُ عَلَى إِرْسَالِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْحَارِثِ.
زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب کہتے تھے: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرائے پر اٹھانے میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ عبدالکریم بن حارث نے اس کے مرسل ہونے میں ان کی موافقت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3937]
حضرت زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ سونے چاندی کے بدلے میں زمین کرائے پر دینا منع نہیں، لیکن حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ (امام زہری کے شاگردوں میں سے) عبدالکریم بن حارث نے اس (شعیب بن ابوحمزہ) کی موافقت میں اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے۔ (اور شعیب کی طرح عبدالکریم نے بھی امام زہری اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے درمیان حضرت سالم کا واسطہ ذکر نہیں کیا)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3580) (صحیح) (یہ روایت منقطع ہے، زہری کی رافع رضی الله عنہ سے ملاقات نہیں ہے، لیکن سابقہ متابعات کی وجہ سے صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3931
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". قُلْتُ: بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا بِمَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ فَلَا بَأْسَ". رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَبِيعَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روکا ہے، میں نے کہا: سونے، چاندی کے بدلے؟ کہا: نہیں (اس سے نہیں روکا ہے)۔ آپ نے تو اس سے صرف اس کی پیداوار کے بدلے روکا ہے۔ رہا سونا اور چاندی (کے بدلے کرایہ پر دینا) تو اس میں کوئی حرج نہیں سفیان ثوری نے بھی اسے ربیعہ سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3931]
حضرت حنظلہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے (بٹائی) پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: سونے چاندی (دینار، درہم یعنی روپے پیسے) کے ساتھ بھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف زمین کی پیداوار کے عوض دینے سے منع فرمایا تھا۔ سونے چاندی کے عوض تو کوئی حرج نہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت ربیعہ سے بیان کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ (لیکن اس کا کوئی نقصان نہیں ہے کیونکہ اکثر لوگوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3950
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامَ الْأَوَّلِ فَزَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ" نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ". خَالَفَهُ عَارِمٌ، فَقَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ،
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب پہلا سال ہوا تو رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔ «عارم» محمد بن فضل نے یحییٰ بن عربی کی مخالفت کی ہے۔ اور اسے بسند «عن حماد عن عمرو عن جابر» روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3950]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ ہم بٹائی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ (یزید یا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا) پہلا سال ہوا تو رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ عارم رحمہ اللہ نے اس (یحییٰ بن حبیب) کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے: «عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ» حماد سے، عمرو سے، جابر سے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3948 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں