سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : حسن الذبح
باب: ذبیحہ کو اچھی طرح ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4419
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، لِيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو۔ تم اپنی چھریاں تیز کر لو اور جانور کو آرام دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4419]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دو باتیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھیں، (آپ نے فرمایا:) ”یقینا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، ذبح کرنے والا اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبح ہونے والے جانور کو کم سے کم تکلیف پہنچائے (مطلب یہ کہ یکبارگی ذبح کرے، دیر نہ لگائے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4410
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: اثْنَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4410]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو باتیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب یاد رکھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے کہ ہر چیز پر احسان کیا جائے، لہٰذا جب تم (کسی انسان کو قصاص میں یا کسی موذی جانور اور درندے وغیرہ کو) قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو۔ اور جب تم ذبح کرنے لگو (کسی پرندے یا حلال جانور کو) تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ اور ذبح کرتے وقت چھری تیز کر لیا کرو اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 11 (1955)، سنن ابی داود/الأضاحی 12 (2815)، سنن الترمذی/الدیات 14(1409)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 3 (3170)، (تحفة الأشراف: 4817)، مسند احمد (4/123، 124، 125)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4416- 4419 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اسلام میں کسی بھی جاندار کے ساتھ احسان (اچھا برتاؤ کرنے) کا ثبوت ملتا ہے، پس جو مذہب جانوروں کے ساتھ ذبح کی حالت میں بھی احسان کا داعی ہے وہ انسانی جانوں کے ساتھ کیسے سلوک کا حکم دے گا واضح ہے۔ سبق لیں اسلام پر تشدد کا الزام لگانے والے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4416
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ إِذَا ذَبَحَ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور جب تم ذبح کرو تو اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو اور ذبیحہ کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4416]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسنِ سلوک فرض قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو (قصاص وغیرہ میں) قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ اور ذبح کرتے وقت اپنی چھری کو تیز کرو اور اپنے ذبیحہ کو جلدی نجات دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4417
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو ہر چیز میں فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح کرو، اور تم اپنی چھریاں تیز کر لیا کرو اور جانور کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4417]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز سے حسنِ سلوک کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے، اس لیے جب تم کسی کو قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ ذبح کرنے والا شخص اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے مذبوح جانور کو راحت پہنچائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر دو باتیں یاد رکھیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو اور تم اپنی چھریاں تیز کر لو تاکہ تم اپنے جانور کو آرام دے سکو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4418]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، ذبح کرنے والا شخص اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن