سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. باب : التسهيل فيه
باب: قرض کے سلسلے میں نرمی برتنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4690
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ وَتُكْثِرُ، فَقَالَ لَهَا أَهْلُهَا فِي ذَلِكَ وَلَامُوهَا وَوَجَدُوا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: لَا أَتْرُكُ الدَّيْنَ، وَقَدْ سَمِعْتُ خَلِيلِي وَصَفِيِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ أَحَدٍ يَدَّانُ دَيْنًا فَعَلِمَ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ قَضَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا".
عمران بن حذیفہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور کثرت سے لیا کرتی تھیں، تو ان کے گھر والوں نے اس سلسلے میں ان سے گفتگو کی اور ان کو برا بھلا کہا اور ان پر غصہ ہوئے تو وہ بولیں: میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی، میں نے اپنے خلیل اور محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی کوئی قرض لیتا ہے اور اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرض ادا کرنے کی فکر میں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا میں ادا کر دیتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4690]
حضرت عمران بن حذیفہ سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور زیادہ لیا کرتی تھیں۔ ان کے رشتہ داروں نے اس بارے میں ان پر اعتراض کیا، ملامت کی اور وہ ان سے ناراض ہوئے۔ وہ فرمانے لگیں: میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی کیونکہ میں نے اپنے پیارے محبوب خاوند صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص بھی قرض لیتا ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم ہو کہ وہ ادائیگی کی نیت رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اس کا قرض اس کی طرف سے ادا کرا دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصدقات 10(2408)، (تحفة الأشراف: 18077) (صحیح) (لیکن ’’فی الدنیا‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله في الدنيا
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2408) زياد بن عمرو وعمران بن حذيفة لم يوثقهما غير ابن حبان. وحديث ابن ماجه (الأصل: 2409) وسنده حسن يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
حدیث نمبر: 4691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَدَانَتْ، فَقِيلَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , تَسْتَدِينِينَ وَلَيْسَ عِنْدَكِ وَفَاءٌ، قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَخَذَ دَيْنًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَهُ أَعَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے قرض لیا، ان سے کہا گیا: ام المؤمنین! آپ قرض لے رہی ہیں حالانکہ آپ کے پاس ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے؟، عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے کوئی قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کی فکر میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4691]
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے ایک دفعہ قرض لیا، ان سے کہا گیا: اے ام المؤمنین! آپ قرض لیتی ہیں جبکہ آپ کے پاس واپسی کے لیے کچھ بھی نہیں؟ وہ فرمانے لگیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص قرض لے جبکہ وہ ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18073)، مسند احمد (6/332، 335) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن