سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : القود من العضة وذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر عمران بن حصين
باب: دانت کاٹ لینے کا قصاص اور اس بابت عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4764
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَاتَلَ يَعْلَى رَجُلًا , فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ , فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یعلیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا ۱؎، ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پھر ایک نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: ”تم میں سے ایک آدمی اونٹ کی طرح اپنے بھائی کے ہاتھ کو کاٹتا ہے (پھر دیت مانگتا ہے) اسے دیت نہیں ملے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4764]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کا ایک آدمی سے جھگڑا ہو گیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کا سامنے والا دانت گر گیا۔ وہ دونوں یہ جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غصے سے) فرمایا: ”کیا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اونٹ کی طرح چباتا ہے؟ جاؤ اس دانت کی کوئی دیت نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4763 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں صراحت ہے کہ دانت کاٹنے والے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ تھے اور جس کو دانت کاٹا تھا وہ ان کا مزدور تھا، چونکہ معاملہ خود یعلیٰ رضی اللہ عنہ کا تھا اس لیے اپنی روایتوں میں (جو آگے آ رہی ہیں) انہوں نے دانت کاٹنے والے کا نام مبہم کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4762
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، أَوْ قَالَ: ثَنَايَاهُ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَأْمُرُنِي؟ تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ، إِنْ شِئْتَ فَادْفَعْ إِلَيْهِ يَدَكَ حَتَّى يَقْضَمَهَا , ثُمَّ انْتَزِعْهَا إِنْ شِئْتَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کا ایک دانت ٹوٹ کر گر گیا (یا دو دانت) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا یہ کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دئیے رہے تاکہ تم اسے جانور کی طرح چبا ڈالو، اگر تم چاہو تو اپنا ہاتھ اسے دو تاکہ وہ اسے چبائے پھر اگر چاہو تو اسے کھینچ لینا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4762]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے والا ایک دانت اکھڑ گیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں اس کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تو کیا چاہتا ہے؟ کیا تو چاہتا ہے کہ میں اسے کہوں کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیے رکھے اور تو اسے چباتا رہے، جیسے اونٹ چباتا ہے؟ اگر تو چاہتا ہے تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے تاکہ وہ اسے چبائے، پھر تو چاہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لینا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 4 (الحدود 4) (1673)، (تحفة الأشراف: 10840) مسند احمد (4/230) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹنے لگے اور وہ اپنا ہاتھ زور سے کھینچ لے جس کی وجہ سے اس کے دانت ٹوٹ جائیں تو ان دانتوں کا قصاص (یا دیت) ہاتھ کھینچنے والے سے نہیں لیا جائے گا، یہ بات صرف دانت کھینچنے میں ہی نہیں اس جیسے دیگر معاملات میں بھی ہو گی۔ دیکھئیے اسی حدیث پر مولف کا باب باندھنا «الرجل یدفع عن نفسہ» (حدیث نمبر: ۴۷۶۷)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4763
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ آخَرَ عَلَى ذِرَاعِهِ فَاجْتَذَبَهَا، فَانْتَزَعَتْ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا، وَقَالَ:" أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، پہلے نے اسے کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا، معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے کچھ نہ دلایا اور فرمایا: ”کیا چاہتے ہو کہ تم اونٹ کی طرح اپنے بھائی کا گوشت چباؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4763]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے بازو پر کاٹ کھایا، اس نے اپنا بازو کھینچا تو اس (کاٹنے والے) کا سامنے والا دانت گر گیا، یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کا کوئی معاوضہ نہیں دلوایا بلکہ فرمایا: ”تیرا مقصد یہ ہے کہ تو اونٹ کی طرح اپنے بھائی کا گوشت چباتا رہتا؟ (اور وہ کچھ بھی نہ کرتا)۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 18 (6892)، صحیح مسلم/القسامة 4 (1673)، سنن الترمذی/الدیات 20 (1416)، سنن ابن ماجہ/الدیات 20 (2657)، (تحفة الأشراف: 10823)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4764-4766)، مسند احمد (4/427، 428، 435، سنن الدارمی/الدیات 14 (2413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4765
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ يَعْلَى، قَالَ: فِي الَّذِي عَضَّ فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ: إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا دِيَةَ لَكَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں کہا جس نے دانت کاٹ کھایا، تو اس کا دانت اکھڑ گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے دیت نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4765]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں جس نے دوسرے کو کاٹا تھا جس سے اس کا دانت گر گیا تھا، فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس جیسے مقدمے میں) فرمایا تھا: ”جاؤ تجھے کوئی دیت نہیں ملے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4763 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4766
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ , فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ ذِرَاعَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ" , فَأَبْطَلَهَا.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک آدمی کے ہاتھ میں دانت کاٹا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم چاہتے تھے کہ تم اپنے بھائی کا ہاتھ اونٹ کی طرح چبا ڈالو“ پھر آپ نے اس کی دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4766]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے بازو پر دانت کاٹا جس کے نتیجے میں اس کا سامنے والا دانت اکھڑ گیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیرا مقصد یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا بازو اونٹ کی طرح چباتا رہتا۔“ پھر آپ نے اس کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4763 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن