سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب : ذكر الاختلاف على خالد الحذاء
باب: تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4802
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”خطا سے مقتول ہونے والا، کوڑے اور ڈنڈے سے مقتول ہونے والے کی طرح ہے، ان میں چالیس ایسی اونٹنیاں ہوں جو حاملہ ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4802]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! جو شخص شبہ عمد کی صورت میں کوڑے یا سونٹے کے ساتھ غلطی سے قتل ہو جائے، اس کی دیت میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4798
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ، بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ فِيهَا أَرْبَعُونَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ".
ایک صحابی سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: ”سنو! قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، ڈنڈے اور پتھر سے مرنے والے کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس «ثنی» سے لے کر «بازلت» ہوں (یعنی چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) اور سب بوجھ لادنے کے لائق ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4798]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا۔ (اس میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! شبہ عمد کی صورت میں کوڑے، ڈنڈے یا پتھر کے ساتھ غلطی سے مارے جانے والے شخص کی دیت سو اونٹ ہے جن میں سے چالیس ثنیہ سے بازل عام تک ہوں اور ان میں سے ہر ایک حاملہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4800
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ كُلَّ قَتِيلِ خَطَإِ الْعَمْدِ أَوْ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلِ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا، أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”سنو! ہر مقتول خواہ غلطی سے مارا گیا ہو یا شبہ عمد کے طور پر ہو، وہ کوڑے یا ڈنڈے سے قتل کیے گئے شخص کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے جو اس کی ہے) اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4800]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! جو شخص غلطی سے شبہ عمد کی صورت میں مارا جائے کوڑے اور ڈنڈے سونٹے کے ساتھ تو اس کی دیت کے اونٹوں میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4801
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب مکہ آئے تو فرمایا: ”سنو! خطا سے مقتول ہونے والا کوڑے اور ڈنڈے سے مر جانے والے کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے) ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4801]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! جو مقتول شبہ عمد کی صورت میں غلطی سے کوڑے یا ڈنڈے سونٹے سے مارا جائے، اس کی دیت کے اونٹوں میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن