🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب : الجهاد
باب: جہاد کے شرائع ایمان ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5033
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَضَمَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِي , وَإِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي فَهُوَ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ , أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ضمانت لی ہے اس شخص کی جو اس کے راستے میں نکلا ہو اور اس کا یہ نکلنا جہاد کے مقصد سے، اللہ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے ہو تو وہ ضامن ہے اس کا کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اسے اس کے وطن لوٹا دے جہاں سے وہ نکلا تھا اس اجر یا مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو جو بھی ملا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5033]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 27 (36)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 1 (2753)، (تحفة الأشراف: 14901)، مسند احمد (2/231، 384) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے (شہید کا درجہ دے کر) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 3124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 26 (36)، الجہاد 2 (2787)، فرض الخمس 8 (3123)، التوحید 28 (6457)، 30 (7463)، (تحفة الأشراف: 13833)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 1 (2753)، موطا امام مالک/الجہاد 1 (2)، مسند احمد (2/231، 384، 399، 494)، سنن الدارمی/الجہاد 2 (2436) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3125
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَاب، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي، أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، أَوْ وَفَاةٍ، أَوْ أَرُدَّهُ، إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کے راستے میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا محض اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے، اور اس کے راستے میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو) اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی فطری موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو، اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 3125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14211)، مسند احمد (2/494، ویأتي عند المؤلف 5025 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5032
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي , وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، وَإِمَّا وَفَاةٍ أَوْ أَنْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ يَنَالُ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کی راہ میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا صرف اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے اور اس کی راہ میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ نے ایسے شخص کی) ضمانت اپنے ذمہ لے لی ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی طبعی موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3125 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں