سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : الخضاب بالصفرة
باب: پیلا (زرد) خضاب لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5088
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْخَلُوقِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْخَلُوقِ، قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ بِهَا لِحْيَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنَ الصِّبْغِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا , وَلَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ بِهَا ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ.
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں؟ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوقتیبہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5088]
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنی داڑھی کو خلوق سے زرد کر رکھا تھا۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ اپنی داڑھی کو خلوق سے رنگتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوق سے داڑھی رنگتے دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بڑھ کر کوئی رنگ پیارا نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے سب کپڑے حتیٰ کہ پگڑی بھی رنگ لیا کرتے تھے۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا: یہ حدیث ابوقتیبہ کی حدیث کی نسبت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 18 (4064)، (تحفة الأشراف: 6728)، ویأتی برقم 5118 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: ”خلوق“ ایک قسم کی خوشبو ہے جو کئی چیز سے بنتی ہے، اس میں ورس اور زعفران بھی شامل ہے۔ ۲؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پیلے رنگ کی اجازت منسوخ ہو جانے کی خبر نہیں مل سکی تھی، پیلا رنگ عورتوں کا رنگ ہونے کے سبب مردوں کے لیے منسوخ کر دیا گیا۔ ۳؎: ابوقتیبہ کی روایت مؤلف کے یہاں آگے آ رہی ہے (حدیث نمبر ۵۲۴۵) اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرنے والے زید بن اسلم کی جگہ ”عبید“ ہیں، مؤلف یہی بتار ہے ہیں کہ سائل ”زید“ ہیں نہ کہ ”عبید“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5245
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ , فَقُلْتُ لَهُ: فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ".
عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنی داڑھی پیلی کرتے دیکھا، تو ان سے اس کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5245]
حضرت عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ داڑھی کو زرد کرتے تھے۔ میں نے ان سے اس کے متعلق بات کی تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی داڑھی مبارک کو زرد کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 117، 2761، 5088 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے حدیث نمبر ۵۰۸۸ کا حاشیہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه